احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکہ وہ کس کا فیصلہ

   

جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو
گجرات ہائی کورٹ نے 7 جولائی 2026 کو چار سال قبل تحت کی عدالت کی جانب سے دیئے گئے اُس فیصلہ کو برقرار رکھا جس میں 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں سے متعلق مقدمہ میں 38 ملزمین کو سزائے موت اور 11 کو سزائے عمر قید سنائی گئی تھی ۔ ہائی کورٹ کے ایک ڈیویژن بنچ نے جو جسٹس اے وائی کو گچ اور سمر داوے پر مشتمل تھی تحت کی عدالت کی جانب سے خاطی قرار دیئے گئے افراد کی داخل کردہ تمام اپیلوں کو رد کردیا ۔ آپ کو بتادوں کہ تحت کی عدالت نے فروری 2022 میں مذکورہ فیصلہ دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے نہ صرف 2022 کے فیصلہ کی توثیق کی بلکہ 38 افراد کی سزائے موت اور 11 کی سزائے عمر قید کو برقرار رکھا۔ راقم الحروف نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کا بڑے غور سے مطالعہ کیا ہے ، اس کا بغور جائزہ لیا ہے اور پورے احترام کے ساتھ اس فیصلہ سے اختلاف کرتا ہوں۔ جہاں تک سلسلہ وار بم دھماکوں کا سوال ہے ، ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بلا شبہ 26 جولائی 2008 کو احمد آباد میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے یقیناً ایک سنگین جرم تھے جن میں 56 بے قصور و بے گناہ افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے اور 240 سے زائد زخمی ہوئے۔ استغاثہ کا یہ موقف کہ تمام ملزمین مسلمان تھے ا ور ان کا یہ ماننا تھا کہ گجرات فسادات جو سابرمتی اکسپریس کے گودھرا واقعہ کے بعد ہوئے ان میں مسلمانوں کو زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ۔ مزید براں یہ کہ شہادت بابری مسجد اور اس نوعیت کے دیگر واقعات کی وجہ سے ملزمان انتقام لینا چاہتے تھے، ایسے میں وہ کالعدم تنظیم سیمی کے بیانر تلے جمع ہوئے ۔ استغاثہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ڈسمبر 2007 میں ملزمین کیرالا کے ایک علاقہ و گامان میں جمع ہوئے جہاں ملزمین کے ایک گروپ کو جسمانی اور اسلحہ چلانے کی تربیت دی گئی ۔ ساتھ ہی لکچرس اور مباحث کے ذریعہ انہیں جہاد کے نظریہ و تصور سے متاثر کیا گیا تاکہ نہ صرف مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات کا انتقام لیا جائے بلکہ ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے مقصد سے عام شہریوں پر دہشت گرد حملے کئے جائیں اور قتل عام برپا کیا جائے ۔ استغاثہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ فروری 2008 میں ایک دوسرا Terror Camp (دہشت گردی کا تربیتی کیمپ) گجرات کے ہلول میں واقعہ پاوا گڑھ کے جنگلات میں منعقد کیا گیا اور اس میں بھی ملزمان کو نہ صرف جسمانی اور اسلحہ چلانے کی تربیت دی گئی بلکہ انہیں بم بنانا بھی سکھایا گیا ۔ پاوا گڑھ کیمپ میں بھی مذہبی تقاریر کی گئیں جس کے ذریعہ مسلمانوں کے جانی و مالی نقصان کا بدلہ لینے کیلئے ابھارا گیا یا ترغیب دی گئی ۔ ساتھ ہی ہی ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں افراتفری پھیلائی جائے ، بڑے پیمانہ پر عوام کو حملوں کا نشانہ بنایا جائے۔ خاص طور پر ہندو کمیونٹی پر حملے کئے جائیں اور احمد آباد میں جو سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے وہ ان ہی تربیتی کیمپوں اور لکچرس کا نتیجہ تھے۔ مجھے دہشت گردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ، میرا تو یہ ایقان ہے کہ دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے لیکن سوال ہنوز حقیقی خاطیوں ، حقیقی دہشت گردوں کی شناخت کا ہے ، ان کی نشاندہی کا ہے ۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں ہمیشہ حقیقی خاطی مجرم آزاد رہتے ہیں، وہ قانون کے شکنجہ میں نہیں آتے جبکہ بے قصور و بے گناہ پر نہ صرف الزامات عائد کئے جاتے ہیں بلکہ انہیں خاطی بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ فوجداری تحقیقات ایک سائنس ہے ۔ اگر ہم شرلاک ہومز کی فرضی کہانیاں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جائے وقوع پر جاکر حون کے نشانات ، قدموں کے نشانات اور دوسرے شواہد جمع کرتا ہے اور پھر منطقی استدلال کے ذریعہ مجرمانہ واقعہ کو حل کرتا ہے ۔ باالفاظ دیگر شرلاک ہومز کی کہانیوں میں جرائم اور جرائم کے حل کو بڑے خوبصورت پیرائے میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح یوٹیوب پر ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح پولیس ترقی یافتہ ملکوں جیسے امریکہ وغیرہ میں جرائم کو بڑی کامیابی سے حل کرتی ہے ۔ مقام واقعہ سے پولیس انگلیوں کے نشانات ، فائبرس، خالی کارتوس مادہ منویہ ، خون کے دھبوں ناخون ، راکھ وغیرہ کے شواہد اکٹھا کرتی ہے پھر ماہرین ان کا تجزیہ کرتے ہیں پھر عینی شاہدین یعنی گواہوں اور مشتبہ افراد سے عصری طریقوں سے پوچھ گچھ کے ذریعہ حقیقی مجرم تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے ۔ اس کیلئے پولیس مجرمین کی انگلیوں کے نشانات ، ڈی این اے کے نمونہ وغیرہ قومی ڈیٹا بیس میں شامل کرتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کہیں ان مجرمین نے اس سے پہلے کسی جرم کا ارتکاب تو نہیں کیا ، اس کے برعکس ہندوستان میں زیادہ تر پولیس اہلکار سائنسی انویسٹگیشن سے ناواقف ہوتے ہیں۔ انہیں اس کی تربیت ہی نہیں دی جاتی اور نہ ہی انہیں اس طرح کی تحقیقات کیلئے سائنسی آلات فراہم کئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تحقیقاتی عہدیدار اپنے اعلیٰ عہدیدار یا سیاستدانوں کے دباؤ میں بھی ہوتے ہیں۔ اگر وہ ناکام ہوجاتے ہیں تو انہیں ملازمت سے معطل بھی کیا جاسکتا ہے ۔ ایسے میں وہ کریں تو کیا کریں اور کرتے ہیں تو کیا کرتے ہیں ؟ ان حالات میں تحقیقاتی عہدیدار مشتبہ افراد کو اذیتیں دینے انہیں ہراساں و پریشاں کرنے کے آزمودہ تجربات کا سہارا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ مشتبہ افراد کے خلاف ڈنڈا کا استعمال کرتے ہیں۔ ویسے بھی اذیت وہ خوفناک چیز ہے جس پر کوئی بھی کسی بھی چیز کا اعتراف کرلیتا ہے ۔ اس ضمن میں ہم جان آف آرک کی مثال پیش کرسکتے ہیں جو اذیت سے گھبراکر خطرناک جادوگر ہونے کا اعتراف کرلیتا ہے ۔ ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں اکثر دہشت گردانہ واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر دھماکے ، ان واقعات کو لے کر پولیس والوں پر بڑا دباؤ ہوتا ہے ۔ پولیس پر دباؤ ہوتا ہے کہ اس قسم کے جرائم کی گتھی سلجھائی جائے چونکہ ہمارے پولیس اہلکار عام طورپر سائنٹفک انویسٹیگیشن کے بارے میںتربیت یافتہ نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی سائنٹفک آلہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ا کثر یہ دیکھا گیا ہے کہ حقیقی خاطی گرفتار ہی نہیں ہوتے ، ان کی بجائے بے قصور وے بے گناہ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آتی ہے ۔ ان پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انہیں خاطی بھی قرار دیا جاتا ہے اور ایسا اکثر جھوٹے ثبوت و شواہد ، مبینہ اعتراف اور گواہ معافی یافتہ عناصر کے بیانات کی بنیاد پر کہا جاتا ہے ۔ گواہ معافی یافتہ بالالفاظ دیگر سرکاری گواہ سزا سے بچنے یا کم سے کم سزا کیلئے سرکاری گواہ بن جاتا ہے ۔ اب ہم موجودہ کیس کی طرف چلتے ہیں۔ احمد آباد میں سلسلہ وار بم دھماکے کرنے کا ان لوگوں کو خاطی تو قرار دیا گیا، 38 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید کی سزا سے متعلق تحت کی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ نے برقرار رکھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بم نصب کئے جانے کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے یا خاطی قرار دیئے گئے افراد کی جانب سے ان کے دھماکے کرنے کا بھی کوئی عینی شاہد نہیں ہے ۔ ہاں ان لوگوں کے خلاف جو شواہد ہیں وہ پی ڈبلیو 1151/8265 ریاض حسین کا اعتراف (سازش کیلئے) پی ڈبلیو 1115/8002 محمد عثمان کا اعتراف (ایک جگہ جمع ہوئے اور نفرت انگیز خطاب سے متعلق) ، پی ڈبلیو 1131/8118 محمد رفیق کا اعترافی بیان (ایک جگہ جمع ہونے اور نفرت پر مبنی تقریر سے متعلق) متذر امام، ملزم نمبر 2 عمران ابراہیم شیخ، ملزم نمبر 21 مہدی حسن انصاری اور ملزم نمبر 35 رفیع الدین کپاڈیہ کے اقبالی بیانات پر مشتمل ہیں۔ دوسرے سرکاری گواہ بننے والے پی ڈبلیو 1141/8191 (سازش رچنے اور بم سازی کیلئے مکانات کرایہ پر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ملزمین کو رہائشی سہولت فراہم کرنے کا اعتراف) ، تیسرے پنچنامے 4 ) 3 ملزمین کی شناختی پریڈ و غیرہ جہاں تک (1 کا سوال ، راقم نے پہلے ہی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ کس طرح پولیس مشتبہ افراد سے اقبال جرم کروالیتی ہے ۔ یعنی اذیتیں دے کر اور اس کیس میں اکثر اعتراف پولیس تحویل میں کروائے گئے (اور اسی لئے پولیس کو ڈنڈا اور دیگر گھناونے طریقے استعمال کرنے کا اچھا خاصا وقت دیا گیا اور حد تو یہ ہے کہ ملزمین کو اعتراف جرم کس حالت میں اور کس بنیاد پر کیا گیا اس کی وضاحت کرنے کوئی قانونی مدد نہیں دی گئی۔
پی ڈبلیو 1151 ریاض حسین جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے اعتراف کیا بعد میں کہا کہ اسے شدید زد و کوب کیا گیا اور اذیتیں دے کر اس کا اعترافی بیان حاصل کیا گیا اور جہاں تک دوسری وجہ کا سوال ہے ، راقم نے پہلے ہی حوالہ دیا ہے کہ کیسے اور کیوں ایک ملزم سرکاری گواہ بنتا ہے ۔ 3 کا جہاں تک تعلق ہے ملزم محمد اسمعیل ، عبدالرزاق، مصحف ، فرقان ایم ڈی اور اسحاق منصوری کے مبینہ طور پر پنچناموں میں رضاکارانہ طورپر اعترافی بیانات دیئے لیکن ان کے بیانات اعتراف ایک جوڈیشیل مجسٹریٹ کے روبرو سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ نہیں کئے گئے اور بظاہرایسا اس لئے کیا گیا کہ پولیس شواہد گھڑنا چاہتی تھی ۔ دوسری جانب ملزم نمبر 1 زاہد المعراف جاوید قطب الدین شیخ کا مبینہ پنچنامہ انکشاف اس کی گرفتاری کے 11 دن بعد اور تحقیقاتی عہدیدار کو اس بات کا پتہ چلنے کے 4 دن بعد کیا گیا کہ ہلول میں دہشت گردی کا کیمپ چلایا گیا۔