اسرائیل وزیر کا انٹرویو سو شل میڈیا پر موضوع بحث

   

لندن : اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بیزالل سموٹرچ کے ایک دستاویزی فلم میں دیئے گئے انٹرویو میں، دریائے اردن کے دوسری جانب تک پھیلے وسیع سرحدوں والے ’بڑے اسرائیل‘کی تصویر کشی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔جیروم سیسکوئن کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ’اسرائیل: دورِ انتشار کے وزیر‘ نامی دستاویزی فلم میں سموٹرچ نے کہا ہے کہ ’’میں ایک یہودی ریاست چاہتا ہوں‘‘۔ اسرائیل کی سرحدیں موجودہ حد تک محدود نہیں رہیں گی۔میزبان کے اس سوال کے جواب میں کہ ’’اس کا کیا مطلب ہے؟ سموٹرچ نے کہا ہے کہ ‘‘ایک یہودی ریاست۔ یعنی ایک ایسی ریاست جو یہودی قوم کی اقدار کے مطابق چلائی جائے۔میزبان کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل کی خودمختاری سمندر سے دریائے اردن تک ہے؟ یا پھر دریائے اردن کی دوسری جانب بھی فتح کی جائے گی؟ سموٹرچ نے “آہستہ آہستہ” کے الفاظ ادا کئے ہیں۔سموٹرچ نے بڑے اسرائیل کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے علما کی کتابوں کے مطابق،قدس کا مستقبل دمشق تک پھیلے گا اور قدس اکیلا ہی دمشق تک جاتا ہے۔سموٹرچ کے یہ بیانات سوشل میڈیا پر گرم بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔واضح رہے کہ انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ سموٹرچ نے 20 مارچ کو دورہ پیرس کے دوران لیکوڈ پارٹی کے سابق لیڈر جیکس کپفر کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کہا تھا کہ فلسطین نام کی کوئی قوم نہیں ہے اور یہ وائٹ ہاؤس کو بھی سن لینا چاہیے۔