اسلام خراب نہیں ہے مگر اس کی تشریح غلط انداز میں کی جاتی ہے۔ آرمی چیف

,

   

چینائی(تاملناڈو)۔ پاکستان کے بالاکوٹ میں دہشت گرد کیمپوں پر انڈین ائیر فورس کی جانب سے بم باری کے کچھ مہینوں بعد پاکستان نے اس کوحال میں ”دوبارہ بحال“ کیا ہے‘ آرمی چیف بپن روات نے یہ بات کہی ہے

https://www.youtube.com/watch?v=k-cEhQjZJBo

روات نے یہاں پر ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ ”میں آپ کو بتادوں‘ بالاکوٹ کو حال ہی میں پاکستان نے دوبارہ بحال کیاہے۔یقینی طور پر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ بالاکوٹ پوری طرح نقصان زدہ اور تباہ ہوگیاتھا۔اسی وجہہ سے لوگ وہاں سے دور ہوگئے تھے“۔

مذکورہ آرمی چیف نے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں آیانئے دہشت گرد ٹھکانے قائم کرنے کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انڈین ائیر فورس (ائی اے ایف) نے بالاکوٹ میں کچھ کاروائی کی تھی اور اب وہ لوگوں کو واپس لارہے ہیں“۔

انڈین ائیر فورس کے لڑاکوطیاروں نے خیبر پختوان صوبہ کے بالاکوٹ میں گھس کے جیش محمد کے دہشت گرد ٹھکانوں کو 27فبروری کے روز اسی سال نشانہ بنایاتھا۔

مذکورہ کاروائی جموں اور کشمیر کے پلواماں میں 14فبروری کے روز خود کش حملے کے بعد کی گئی تھی۔ اس کے بعد ہندوستان او رپاکستان کے درمیان میں کشیدگی بڑھتی ہی چلی گئی ہے۔

آرمی چیف نے ایل اوسی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے متعلق بھی کچھ سوالات کا جواب دیا‘ روات نے کہاکہ پاکستان جنگ بندی کی خلاف ورزی اس لئے کررہاہے کیونکہ وہ دہشت گردوں کو ملک میں داخل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”ہم جانتے ہیں کہ کس طرح اس خلا ف ورزی کا حل نکالا جائے۔ ہمارے دستے جانتے ہیں کہ کونسے مقام پر کھڑے ہونا ہے اور کیاکاروائی کرنا ہے۔

ہم چوکنا ہے اور گھس پیٹ کی ناکامی کو یقینی بنانے کاکام کررہے ہیں“۔

رابطے میں رکاوٹ کے متعلق سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہاکہ ”یہاں پر رابطے میں رخنہ وادی میں دہشت گردوں کے درمیان اور کے پاکستان میں موجود اقاؤں میں ہے عام لوگوں کے رابطے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

تمام ٹیلی فون لائن کھول دی گئی ہیں“۔مذکورہ آرمی چیف نے اسلام کے متعلق بھی بات کہی۔

انہوں نے کہاکہ ”امکانی طور پر خلل پیدا کرنے والے عناصر کی جانب سے اسلام کے متعلق ایسی تشریح کی گئی جو بڑی تعداد میں لوگوں کو باوار کرایاگیاہے۔

ایسا نہیں ہے کہ مذہب خراب ہے مگر جس انداز میں کسی بھی وجہہ سے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس کا اثر ان لوگوں پر پڑا ہے جو سناتے ہیں اور اس طرح کے پیغامات سے بھٹک جاتے ہیں“