افغانستان میں تبدیلی ناگزیر:گلبدین حکمت یار

   

کابل :8 اکٹوبر ( یو این آئی ) افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہیکہ اقتدار افغان عوام کے حوالے کیا جائے۔ افغانستان میں تبدیلی ناگزیر ہے اور وہ بہت قریب ہے۔ میڈیا کے مطابق گلبدین حکمت یار نے اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب کے دوران کہا کہ افغان عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی نظام اور حکومت کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ اقتدار افغان عوام کو منتقل ہونا چاہیے تاکہ عوام ایک کونسل منتخب کرسکیں اور ملک کے مستقبل کے سیاسی نظام اور حکومت کا فیصلہ کر سکیں۔گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ ملکی اور خارجہ پالیسی، بجٹ، جنگ اور امن سے متعلق فیصلے منتخب اداروں کے ذریعے کیے جانے چاہئیں۔ عوام کی مرضی ہر آنے والے سیاسی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو جنگ اور امن میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا، افغانستان میں تبدیلی ناگزیر ہے اور بہت قریب ہے کہ ایسا ہو، جس طرح سوویت یونین اور امریکہ کی حمایت سے قائم ہونے والی حکومتیں زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکیں اسی طرح طالبان کی حکومت بھی برقرار نہیں رہ سکے گی۔سابق افغان وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہے اور اپنے دعوؤں کے برعکس خطے اور دنیا میں اس کے حقیقی اور مستقل اتحادی موجود نہیں ہیں۔جو ممالک پہلے طالبان کی حمایت کرتے تھے، اب وہ بھی ان کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں اور کوئی بھی ملک طالبان کو مکمل حمایت فراہم نہیں کر رہا۔افغان طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ افغانستان میں مخالفین کے لیے کوئی جگہ نہیں تو پھر آپ کیلئے بھی جگہ نہیں ہونی چاہیے،کیونکہ آپ اب دوسروں کو برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی حکومت کے دوران افغان عوام بے روزگاری، بدامنی اور غربت سمیت مختلف سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔