اپوزیشن ہر قسم کی جدوجہد کیلئے تیار ہیں، راہول اور پرینکا کی حراست پر صدر کانگریس کا پوسٹ
نئی دہلی ، 7 اکتوبر (ایجنسیز) دہلی پولیس اور انتظامیہ نے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت درجنوں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو آج حراست میں لے کر جنتر منتر جانے سے روکا۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو جبراً حراست میں لے کر بس میں بٹھائے جانے کی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ انتظامیہ کسی بھی حال میں انھیں جنتر منتر جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں نے آج فیصلہ کیا تھا کہ ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جو کہ راجدھانی میں مختلف احتجاجوں کیلئے مختص جگہ ہے۔ لیکن ساگر رتن ریسٹورینٹ سے جنتر منتر کی طرف بڑھتی ہوئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی بسوں کو درمیان میں ہی روک دیا گیا۔ راہول اور پرینکا سمیت کئی اپوزیشن قائدین و کارکنان نے پیدل جنتر منتر جانے کی کوشش کی، لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو دہلی پولیس کے ذریعہ جبراً حراست میں لیے جانے کے درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’آئین اور جمہوریت کو بچانے کیلئے ہمیں جتنی بار بھی سڑکوں پر اترنا پڑے، گرفتار ہونا پڑے یا کیسز جھیلنے پڑیں، کانگریس پارٹی اور اپوزیشن اس کیلئے تیار ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’تاناشاہ مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کا یہ جو اتحاد ہے، اس کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ وقت ہے استعفیٰ کا اور کارروائی کا۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’متکبر اقتدار عوام کے جذبے کے آگے زیادہ دیر ٹک نہیں سکتا۔‘‘ اس درمیان کانگریس نے کئی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو جبراً حراست میں لیے جانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے کئی تلخ تبصرے کیے ہیں۔ ایک ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’نریندر مودی بزدل ہے‘‘، اور ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے ’’دیکھیں کتنا ظلم کرو گے، کتنا زور لگاؤ گے، سچ ہمارے ساتھ ہے، ہماری ہمت نہ توڑ پاؤ گے۔‘‘ ایک پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’کانگریس نے شکست مان کر بیٹھ جانا نہیں سیکھا، یہ جنگ گیانیش کے استعفیٰ تک جاری رہے گی‘‘، اور دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا ہے ’’ملک سے بغاوت کرنے والوں اور غداروں کے خلاف ہماری جنگ رکنے والی نہیں ہے۔‘‘