اقلیتی طبقات کے غریب عوام تک حکومت پہونچنے سنجیدہ

   

عہدیداروں کی غفلت و کوتاہی ناقابل برداشت: تفسیر اقبال
حیدرآباد۔24اپریل(سیاست نیوز)محکمہ اقلیتی بہبود کے اسپیشل سکریٹری ‘ تفسیر اقبال آئی پی ایس نے کہاکہ حکومت اقلیتی طبقات کی غریب عوام تک رسائی کے لئے سنجیدہ ہے ۔ فلاحی اسکیمات کو اقلیتوں میں آخری پسماندہ شخص تک پہنچایا جائے جائے گا۔ تفسیر اقبال جو کہ2008بیاچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس‘ انٹلیجنس سکیورٹی ونگ ( آئی ایس ڈبلیو)حیدرآباد بھی ہیں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کو ایمانداری او ردیانت داری سے کام کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری محکموں بالخصوص اقلیتی بہبود کو فعال بنانے کی جس قدر ذمہ داری محکمہ سے وابستہ عہدیداران او رملازمین کی ہے اتنی ہی ذمہ داری محکمہ سے استفادہ کرنے والے افراد پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ محکمے کی کارکردگی پر تنقیدیں کرنے سے اس میںسدھار نہیںآسکتا بلکہ اس سے استفادہ کرنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت بجٹ فراہم کررہی ہے اگراس بجٹ کا خاطر خواہ استعمال نہیں ہورہا ہے تو پھر بجٹ کی اجرائی کا مقصد ختم ہوجائیگا۔تفسیر اقبال نے کہاکہ میری یہی کوشش رہے گی کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی ساری خامیوں کو دور کروںاور مرکزی وریاستی حکومتوں کی جانب سے جاری ہونے والے بجٹ کے 100فیصد استعمال کو یقینی بنائوں ۔ اقلیتوں کے سب سے آخری غریب تک حکومت کی فلاحی اسکیم کو پہنچانے میںکوئی بھی غفلت او رکوتاہی کو میںاپنی ناکامی تصور کرتاہوں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے دیگر عہدیداران اور ملازمین کو چاہئے کہ وہ محکمہ جاتی مسائل سے انہیں واقف کروائیں ‘اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور چوکنا رہیں ‘ کسی قسم کی کوتاہی اورغفلت کو برداشت نہیں کیاجائیگا۔ایک سوال کے جواب میں تفسیر اقبال نے کہاکہ اقلیتی اقامتی اسکولو ں میںدھاندلیوں کے متعلق ہو یا پھر وقف بورڈکے ریکارڈ روم کو مقفل کرنے کا معاملہ ‘ یا پھر اس کے علاوہ بہت ساری شکایتیں اوقافی جائیدادوں کے متعلق ہیںاور محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف شعبوں میں تقررات سے لے کر کنٹراکٹس تک جتنی بھی شکایتیں ہیںان سب کی کڑی جانچ پڑتال کی جارہی ہے ۔