امریکہ، ایران جنگ بندی غیر مستحکم، سفارتکاری پر زور

   

واشنگٹن ؍ تہران ۔ 5 مئی (ایجنسیز) حملوں کی ایک نئی لہر کے بعد جس نے جنگ بندی کو غیر مستحکم کر دیا، آج منگل کو دنیا کے متعدد رہنماؤں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی حل پر قائم رہے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کے تقریباً ایک ماہ بعد پہلی بار اسے ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔جرمن چانسلر فریڈرِش مرٹس نے ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور خطے اور دنیا کو یرغمال بنانا بند کرے، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امارات پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ”ناقابلِ قبول” قرار دیا۔امارات کے مطابق اسے 8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد پہلی بار میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی امارات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کشیدگی کو روکنا ہوگا۔ ایران کو سنجیدگی سے مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ جنگ بندی برقرار رہ سکے اور ایک پائیدار سفارتی حل نکالا جا سکے۔سعودی عرب بھی منگل کو کشیدگی کم کرنے کی اپیلوں میں شامل ہو گیا اور سیاسی حل کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔دوسری جانب امریکہ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے کم از کم چھ ایرانی چھوٹی کشتیوں کو غرق کر دیا، تاہم تہران نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی جنگی کشتی نشانہ نہیں بنی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے کشتیوں پر سوار پانچ شہریوں کو ہلاک کیا۔متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اسے ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں کو ”خطرناک کشیدگی” قرار دیا۔ایک حملہ امارتِ فجیرہ میں توانائی کی تنصیب پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے۔بھارت نے منگل کو اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ جہاز رانی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔اس سے قبل حکام کے مطابق ایرانی ڈرونز نے امارات کی سرکاری تیل کمپنی ادنوک (ADNOC) کے ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا تھا۔