بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے
ضرور کوئی کمی ہے جو پائی جاتی ہے
ایران کے خلاف ایک غیر ضروری جنگ مسلط کرنے اور اس جنگ میں ایک طرح سے منہ کی کھانے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایسا لگتا ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سے اپنی خفت مٹانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرموز کے تعلق سے جو بیانات دئے تھے وہ بعد میں مضحکہ خیز ہی ثابت ہوئے ۔ انہوں نے یوروپی ممالک کو مدد کیلئے طلب کیا تھا تاہم کوئی بھی یوروپی ملک سامنے نہیں آیا اور ٹرمپ نے اس پر اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ انہیں ناٹو کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے آبنائے ہرموز میں اپنی جنگی جہاز روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس پر بھی وہ کچھ نہیں کرپائے اور کوئی جہاز وہاں تک نہیں پہونچا ۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم خود ہی اس کارروائی کو پانچ دن کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ۔ ٹرمپ نے اچانک ہی اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی بات چیت بھی ہو رہی ہے اور اچھے نتائج کی امید کی جاسکتی ہے ۔ ایران نے فوری طور پر بات چیت کی تردید کردی اور کہا کہ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو جاری رکھا جائے ۔ سعودی عرب نے بھی فوری تردید کردی کہ محمد بن سلمان نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ یہاں بھی ٹرمپ کی غلط بیانی سامنے آگئی ہے ۔ ساری صورتحال میں خود امریکہ میں اس جنگ کی مخالفت میں ماحول شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ کو اس جنگ سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے اور وہ لگاتار الجھن کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ایسے میں کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اب ایران کے خلاف زمینی افواج بھی روانہ کرنے پر غور کر رہا ہے ۔ اس کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ ایران نے بھی اس امکان پر اپنی تیاری شروع کردی ہے اور فوج کی بھرتیوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ تقریبا دس لاکھ افراد فوج میں بھرتی کیلئے آگے آئے ہیں جبکہ اسرائیل کو فوج کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ اشارے ملنے لگے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے زمینی افواج کو بھیجنے کی خاموشی سے تیاری شروع ہوگئی ہے ۔
ٹرمپ کسی نہ کسی طرح سے اس جنگ میںخو ہی الجھنے لگے ہیں۔ وہ اسرائیل کے دباو اور اس کے جھانسہ میں آکر اس جنگ کو شروع کرنے کی غلطی تو کرچکے ہیں اور اب غلطی سدھارنے کے نام پر لگاتار غلطیوں کا اعادہ کرنے لگے ہیں۔ انہیں اس جنگ سے نکلنے کی ایسی کوئی راہ کھائی نہیں دے رہی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی عزت کو برقرار رکھتے ہوئے فرار حاصل کرسکیں۔ در پردہ سفارتی کوششیں بھی ضرور ہو رہی ہیں لیکن ایران اس معاملے میں بھی ٹرمپ کو مات دینے لگا ہے اور وہ ٹرمپ کی کسی بھی تجویز کو قبول کرنے کی بجائے اپنی شرائط عائد کر رہا ہے اور اپنے منصوبوں کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے ۔ ایران نے سب سے پہلے تو امریکہ اور اسرائیل کے اس تاثر کو غلط ثابت کردیا کہ وہ اس جنگ کو زیادہ دن جھیل نہیں پائے گا ۔ اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ٹرمپ اور اسرائیل کی گھناونی سازش کی قیمت ساری دنیا چکانے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ دنیا بھر میںمعیشتیں متاثر ہونے لگی ہیں اور توانائی کی ضروریات مکمل نہیںہو پا رہی ہیں۔ عالمی سطح سے در پردہ ٹرمپ پر دباو پڑنے لگا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمہ کیلئے پیشرفت کریں۔ ٹرمپ خو د بھی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں اور اسی وجہ سے اب زمینی افواج کی روانگی پر غور کیا جا رہا ہے ۔ جس طرح سے ٹرمپ اور اسرائیل کا جنگ شروع کرنا ایک بڑی غلطی تھی اسی طرح سے زمینی افواج کو بھیجنے کا فیصلہ بھی امریکہ اور اسرائیل کیلئے ہی بھاری پڑسکتا ہے ۔
جنگ چاہے زمینی ہو ‘ فضائی ہو یا پھر بحری ہو کسی کیلئے بھی فائدہ بخش نہیںہوسکتی ۔ جنگ شروع کرنے والا بھی مشکل کا شکار ہوتا ہے اور جس کے خلاف جنگ شروع کی گئی ہے اس کو بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اب اگر زمینی فوج بھیجتے ہوئے لڑائی میں توسیع کی گئی تو پھر جنگ بندی کے آثار بہت ہی معدوم ہوجائیں گے اور ایران کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوگا ۔ ایسے میں جو نقصانات ہونگے وہ ہر دو جانب ہونگے ۔ امریکہ کو ٹرمپ کی بیوقوفی والی حرکتوں کا خمیازہ بھگتنے کی بجائے جنگ کو ختم کرنے کی راہ تلاش کرنی ہوگی اور دنیا کے دوسرے مماک کو اسرائیلی و امریکی بھی جارحیت کا سلسلہ روکنے آگے آنا چاہئے ۔