انڈیابلاک کی بھوپال میں پہلی مشترکہ عوامی ریالی

,

   

انڈیا اتحاد کا اگلا اجلاس پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے بعد منعقد ہوگا
نئی دہلی۔انڈیا بلاک کوارڈنیشن کمیٹی کے چہارشنبہ کے روز منعقدہ اجلاس کے بعد ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ ٹی آر بالو نے کہاکہ مذکورہ اتحاد جو دودرجن اپوزیشن پارٹیوں پر مشتمل ہے نے فیصلہ کیا ہے کہ اکٹوبر کے پہلے ہفتہ میں انتخابات کے زیر اثر مدھیہ پردیش کے بھوپال میں ایک پہلی مشترکہ عوامی ریالی منعقد کی جائے گی۔

ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی مانا مذکورہ بلاک میں شامل پارٹیاں بہت جلد سیٹوں کی تقسیم پر بات چیت جلد از جلد شروع کریں گے اور اسی سال جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے انہیں ترجیح دی جائے گی۔ بالو نے کہاکہ ”مختلف ریاستوں میں سیٹوں کی تقسیم او رتبادلہ خیال پر جانے کا ہم نے فیصلہ کیاہے۔ جن ریاستوں میں فوری اسمبلی انتخابات ہیں انہیں ترجیح دی جائیگی۔

پہلی ریالی اکٹوبر کے پہلے ہفتہ میں بھوپال میں منعقدہوگی“۔ انڈیااتحاد کی کوارڈنیشن کمیٹی کاپہلے اجلاس میں پارٹیوں کے بارہ ممبرس نے شرکت کی‘ جس کا انعقاد چہارشنبہ کے روز قومی درالحکومت میں این سی پی سربراہ شرد پوار کے مکان پر عمل میں آیاتھا۔

مشترکہ بیان میں لکھا ہے کہ ”کوارڈنیشن کمیٹی کا پہلا اجلاس شرد پوار کے مکان پر منعقد ہوا جس میں پارٹیوں کے بارہ ممبرس نے شرکت کی۔کل ہند ترنمول کانگریس کے ابھیشک بنرجی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے سمن کی وجہہ سے شریک نہیں ہوسکے‘ اوریہ سمن بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتقامی سیاست کا نتیجہ ہے“۔

اس میں کہاگیا ہے کہ ”مذکورہ کوارڈنیشن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم پر فیصلے کے عمل کی شروعات کریں۔ اس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ پارٹی ممبران بات کریں گے اور جلد از جلد اس پر فیصلہ کریں گے“۔

اس میں کہاگیاہے کہ ”کوارڈنیشن کمیٹی کے ذیلی گروپوں کے اینکرس کے ناموں پر بھی فیصلہ کیاہے جس کے پروگرام میں انڈیا بلاک کا کوئی بھی لیڈر شامل نہیں ہوگااور نہ ہی کوئی پارٹی اپنے نمائندے کو روانہ کریگی“۔

اسمبلی انتخابات راجستھان‘ چھتیس گڑھ‘ مدھیہ پردیش اور تلنگانہ میں اس سال کے اخر میں مقرر ہیں۔انڈیا اتحاد کا اگلا اجلاس پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے بعد منعقد ہوگا۔ذرائع نے مزید کہاکہ اس کے علاوہ میٹنگ میں سناتن دھرم کے متعلق پیدا ہونے والے تنازعہ کو بھی زیربحث لایاگیاہے۔

اسٹالن کے مکتوب پر بھی بات کی گئی اور فیصلہ کیاگیا کہ تمام پارٹیاں اسی خطوط پر کام کریں گی۔ یاد رہے کہ یکم ستمبر کے اپوزیشن کے انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس(ائی این ڈی ائی اے) نے اپنے ممبئی کے تیسرا اجلاس میں ایک 14رکنی کوارڈنیشن کمیٹی کا اعلان کیاتھا۔