تل ابیب ۔ 4 ستمبر (ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کے روز یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کیلئے اب ایرانی حکومت کو بر طرف کرنے اور اس کی جگہ دوسرے لوگوں کو آگے لانے کا معاملہ اسرائیلی دسترس میں آچکا ہے۔ کیونکہ امریکہ نے بار بار کے حملوں سے ایرانی حکومت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کمزور کردیا ہے۔وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ ایک تقریب میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایرانی حکومت جلد گرائی جا سکتی ہے۔نیتن یاہو نے کہا وہ پوری طرح اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ ایرانی حکومت کی صورت میں موجود اس خطرے کو اب ہمیشہ کیلئے ختم کر دینا چاہیے، یہ اسی صورت ممکن ہے کہ اسے اتار پھینکا جائے۔ یہ اب تک ایران کے حوالے سے مرکزی ہدف ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ اسے بند رکھا گیا ہے۔ مگر یہ ناممکن نہیں ہے، بلکہ ہماری دسترس میں ہے۔نیتن یاہو دہائیوں سے ایرانی علماء کی حکومت کو اسرائیل کے وجود کو خطرے کی صورت پیش کرتے آئے ہیں۔ اسی سال 28 فروری کو امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ یہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب اس سے قبل ملک کے اندر ایرانی تاجروں اور دکانداروں کا مہنگائی کے خلاف احتجاج حکومتی خاتمے کا مطالبہ کرنے لگا تھا۔28 فروری کو پہلے حملوں کے دوران ہی ایرانی حکومت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اپنے اہل خانہ سمیت اپنے گھر میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔ یہ ایک بڑی کامیابی تو امریکہ اور اسرائیل کو پہلے ہی دن مل گئی تھی اور امید پیدا ہو گئی تھی کہ یہ حکومت اب ٹھہر نہ سکے گی۔مگر اپریل میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک جنگ بندی کی بات کر دی۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی یہ بات اچانک بھی تھی اور امریکی مفادات اور مسائل کے تناظر میں تھی ، جبکہ اسرائیل ابھی جنگ بندی کے حق میں نہیں تھا۔اب امریکہ اگرچہ بار بار حملے کر کے ایرانی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہا ہے۔ مگر اس نے اس کے ساتھ ہی ایک متوازی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے معاشی پابندیوں کی بھی بد ترین شکل عائد کر دی ہے۔
ملائیشیا کے سراواک میں ایمرجنسی نافذ
کوالالمپور، 4ستمبر (یو این آئی) پڑوسی ملک انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ کے وسیع تر علاقائی اثرات سامنے آرہے ہیں۔ جنگلات اور دلدلی علاقوں میں لگی آگ سے اٹھنے والے گھنے دھوئیں کے باعث فضائی آلودگی کی سطح 500 سے تجاوز کرنے کے بعد ملائیشیا نے جزیرہ بورنیو کے سراواک کے ایک حصے میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے ۔ وزیر اعظم کے دفتر نے یہ اطلاع دی۔
وزیر اعظم انور ابراہیم نے بتایا کہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری ملائیشیا کے بادشاہ سلطان ابراہیم نے بھی دے دی ہے ۔دریں اثنا، حکام بگڑتی ہوئی دھند پر قابو پانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔انور ابراہیم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ”حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام ضروری اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں، جن میں تدارکی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو معلومات اور صحت سے متعلق مشورے فراہم کرنا بھی شامل ہے ۔”انور ابراہیم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ بادشاہ سلطان ابراہیم نے ”سراواک کے پورے سریان ڈویژن میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے ، کیونکہ دھند کی صورتحال کے باعث فضائی آلودگی کی سطح عوامی صحت اور سلامتی کے لیے خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے ۔”مقامی میڈیا کے مطابق سریان کے ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر میں قائم فضائی آلودگی کی نگرانی کے مرکز پر جمعہ کو ایئر پولیوٹنٹ انڈیکس (اے پی آئی) 518 تک پہنچ گیا، جو ملائیشیا میں خطرناک آلودگی کی مقررہ حد 300 سے کہیں زیادہ ہے اور اس سطح سے بھی تجاوز کر گیا ہے جہاں ہنگامی اقدامات پر غور کیا جاتا ہے ۔