روایتی مردم شماری یا طبقہ واری مردم شماری کا امکان ، نشریات بل سے دستبرداری
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔22۔اگسٹ۔ حکومت ہند این آر سی معاملہ میں بھی اپنے موقف کو تبدیل کرنے کا ذہن تیار کرچکی ہے!ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے کمزور ہونے اور این ڈی اے کے اقتدار میں آنے کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے تبدیل کئے جانے والے فیصلوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ مردم شماری کے ساتھ این آر سی کا عمل نہیں ہوگا بلکہ محض روایتی مردم شماری کی جائے گی یا پھر اپوزیشن اور این ڈی اے میں شامل بعض سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق طبقہ واری مردم شماری کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ 2024 عام انتخابات میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد نریندر مودی حکومت نے نشریات بل سے دستبرداری اختیار کی اس کے علاوہ وقف ترمیمی بل کو جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی طرح مرکزی حکومت کے محکمہ جات میں بغیر تحفظات کے لیٹرل انٹری کے لئے جاری کئے گئے اشتہار سے دستبرداری اختیار کی ہے۔اسی طرح اب طویل عرصہ سے التواء کا شکار مردم شماری کا آئندہ ماہ آغاز متوقع ہے ۔ حکومت ہند کے متعلقہ محکمہ جات نے آئندہ ماہ سے مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم ہند کی جانب سے اس فیصلہ کو قطعیت دیئے جانے کے بعد ملک بھر میں ستمبر کے دوران مردم شماری کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندستان میں آبادی اور ان کے موقف کے سلسلہ میں مردم شماری کے متعلق مرکزی حکومت کی جانب سے مختلف وجوہات کی بناء پر پیدا کی جانے والی تاخیر کو ختم کرتے ہوئے مردم شماری کا آغاز کرنے کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے اور کہا جار ہا ہے کہ اس مردم شماری کے دوران این آر سی کا عمل بھی کیا جائے گا یا نہیں اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ ملک میں 2011 کی مردم شماری کی رپورٹ کی بنیادوں پر ہی اب تک منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور سال 2021 میں مردم شماری کی جانی تھی لیکن سی اے اے ‘ این آر سی کے کے احتجاج اور کورونا وائر س لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں مردم شماری اور این آر سی کو زیر التواء رکھا گیا ہے۔ حکومت ہند نے سال 2023 میں مردم شماری کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جلد ہی مردم شماری کا عمل شروع کیا جائے گا لیکن ملک بھر میں عام انتخابات کے پیش نظر مردم شماری کے عمل کو روک دیا گیا اور اسے ایک مرتبہ پھر سے ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ ہندستان میں 2024 عام انتخابات کے عمل کی تکمیل کے بعد اب مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق مردم شماری کے متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے اپنی مکمل تیاری کے سلسلہ میں وزارت کو واقف کروایا گیا ہے اور کسی بھی وقت حکومت کے احکامات کی صورت میں مردم شماری کے عمل کے آغاز کے لئے تیار ہونے کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ اور وزارت عظمیٰ کی جانب سے 15سال پر محیط زیر التواء مردم شماری کے آغاز کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ اقوام متحدہ نے سال گذشتہ ہندستان کو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندستان نے آبادی میں چین کو پیچھے چھوڑدیا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ ہندستان میں مردم شماری کے سلسلہ میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے قبل جو مراسلت ہوئی تھی اس میں محکمہ جاتی سطح پر جاری کردہ احکامات میں کہا گیا تھا کہ مردم شماری کے عمل کے ساتھ ساتھ این آر سی کو بھی اپ ڈیٹ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور شہریوں سے دستاویزات طلب کرتے ہوئے ان کی شہریت کی جانچ کی جائے گی ۔ مراسلت کے ان مکتوبات کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر کی کئی ریاستوں میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی تھی اور حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا جانے لگا تھا لیکن کورونا وائرس کے سبب پیداشدہ صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے حکومت نے مردم شماری کے عمل کو ہی مؤخر کرنے کا اعلان کردیا تھا ۔ این آر سی کے لئے حکومت ہند کی جانب سے جن دستاویزات کی وصولی کا فیصلہ کیا گیا تھا اس میں ترمیم یا این آر سی کے بغیر ہی امکان ہے کہ مردم شماری کی جائے گی اور نیشنل رجسٹر فار سٹیزن کو مردم شماری کی بنیاد پر ہی حسب سابق اپ ڈیٹ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق این ڈی اے میں شامل جن سیاسی جماعتوں نے این آر سی کی مخالفت کی تھی ان سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں سے ملاقات اور مشاورت کے بعد ہی مرکزی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے آغاز کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جائیگی ۔