بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے اسکول ایجوکیشن میں انضمام کا فیصلہ ملتوی

   

موجودہ سسٹم کے تحت داخلوں کی ہدایت، اسمبلی میں مباحث کے بعد فیصلہ کرنے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلان
حیدرآباد۔ 10 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اور اسکول ایجوکیشن کے انضمام کے فیصلے کو موخر کردیا ہے۔ انٹرمیڈیٹ میں موجودہ سسٹم کے تحت تعلیمی سال 2026-27 کے لئے داخلوں کا فیصلہ کیا گیا۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے داخلوں سے متعلق شیڈول جاری کیا تھا لیکن انضمام کی اطلاعات کے دوران شیڈول پر عمل آوری کو روک دیا گیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسکولی تعلیم اور انٹرمیڈیٹ تعلیم کے انضمام کی تجویز کا ماہرین تعلیم اور عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ ریاستی اسمبلی میں مباحث اور اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ وسیع تر مشاورت کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ جاریہ سال موجودہ طریقہ کار کے مطابق انٹرمیڈیٹ میں داخلے انجام دیں۔ انٹرمیڈیٹ داخلوں کے لئے کم وقت اور اسکول ایجوکیشن کے ساتھ انضمام کے معاملہ میں کئی تکنیکی رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فوری طور پر داخلوں کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی تاکہ طلبہ کو دشواریوں سے بچایا جائے۔ طلبہ کے مفادات کو متاثر کئے بغیر داخلوں کا عمل شروع کرنے کی چیف منسٹر نے ہدایت دی۔ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ انٹرمیڈیٹ نظام کو ختم کرتے ہوئے سی بی ایس ای طرز پر 11 ویں اور 12 ویں جماعتوں کا نظام نافذ کیا جائے۔ کمیشن کے مطابق اس قدم سے ڈراپ آؤٹ طلبہ کی تعداد میں کمی آئے گی۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں سی بی ایس ای 11 ویں اور 12 جماعتوں کا نظام رائج ہے جبکہ تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ تعلیم علیحدہ سسٹم کے تحت جاری ہے۔ سرکاری اسکولوں میں 10 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ انٹرمیڈیٹ کے کالجس میں داخلہ نہیں لے رہے ہیں جس کے باعث ان کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔ طلبہ میں تعلیم ترک کرنے کے رجحان کو روکنے کے لئے ایجوکیشن کمیشن نے انضمام کی سفارش کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ انٹرمیڈیٹ کو علیحدہ برقرار رکھنے کے بجائے 11 ویں اور 12 ویں جماعتوں کی شکل میں برقراری کے امکانات کا جائزہ لیں۔ گزشتہ دنوں انٹرمیڈیٹ میں داخلے روکنے کے متعلق حکام کے اعلان کے بعد طلبہ اور ان کے والدین میں تشویش دیکھی گئی۔1؍F