حیدرآباد ۔ یکم؍ اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان کئی ایک پلیٹ فارمس پر ایک سیاسی جنگ چل رہی ہے۔ ان دو جماعتوں کے قائدین سوشل میڈیا، عوامی جلسوں، میڈیا، کانفرسیس کے ذریعہ ایک دوسرے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانے میں تو مصروف ہیں اب انہوں نے ایک پوسٹر جنگ بھی شروع کی ہے چونکہ یہ انتخابات کا سال ہے اس لئے سیاسی جماعتیں ان کے حریفوں پر غالب آنے اور کم وقت میں زیادہ عوام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے نت نئے طریقوں کو اختیار کررہے ہیں۔ چنانچہ بی آر ایس کی جانب سے اپل فلائی اوور کے پلرس پر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف پوسٹرس لگائے گئے ہیں اور یہ کہا گیا کہ اس فلائی اوور کا کام 2018ء میں شروع ہوا تھا لیکن اب تک اس کا صرف 40 فیصد کام ہی مکمل ہوا ہے۔ اس کے جواب میں بی جے پی کی جانب سے بھی اسی مسئلہ پر ریاستی وزیر کے ٹی آر کے امیج کے ساتھ پوسٹرس لگائے گئے ہیں۔ حال میں مرکزی وزیر امیت شاہ نے حیدرآباد کا دورہ کیا تھا، اس وقت بی آر ایس نے ’’واشنگ پاؤڈر نرما‘‘ کے پوسٹرس سے ان کا خیرمقدم کیا تھا اور بیانرس پر چند قائدین کے امیجس پیش کرتے ہوئے یہ بتایا گیا تھا کہ داغدار قائدین زعفرانی پارٹی میں شامل ہونے کے بعد اچانک کلین ہوجائیں گے۔