جب تبلیغی جماعت کے لوگوں کو نشانہ بنایاجارہاتھا اس وقت لاتور کے آشرم میں 1341عقیدت مند موجود تھے۔ ویڈیو

,

   

مذکورہ ’مہا انوبھو پنت“ کے 1341فالورس کو منتقل کرنے کے لئے خصوصی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیاگیاتھا
پونا۔ اس وقت جب تبلیغی جماعت کے لوگوں پر نظام مرکز میں چھپنے کا الزام عائد کیاجارہاتھا کیونکہ وہ اجلاس کے بعد اپنے گھر واپس نہیں جاسکے تھے‘ اس کی وجہہ اچانک لاک ڈاؤن اعلان تھا‘ اسی طرح کے حالات‘ ایک طبقے کے 1341سے زائد لوگوں کو درپیش تھے‘ جو لاتور کے آشرم میں مہارشٹرا کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔

مرہٹواڑہ علاقے کی ضلع لاتور میں نالنگا تحصیل میں یہ ماہاانوبھاوی سماج کے لوگ 26فبروری کے روزآشرم گئے تھے۔ مگر یکطرفہ کام کرنے والے صحافی جو جمہوریت کا چوتھا ستون ہوتے ہیں تبلیغی کی تذلیل میں پیش پیش تھے اور آشرم کی تقریب پر اپنے ہونٹ بند کئے ہوئے تھے۔

ماہاانوبھویوں کا پروگرام 29مارچ کے روز اختتام پذیر ہوا مگر 22مارچ سے لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں آگیاتھا اس کے لئے انہیں وہیں روکے رہنا پڑا تھا۔ تاہم ریاستی حکومت نے اتوار (19اپریل) کے روز خصوصی احکامات کے ذریعہ انہیں سفر کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔

آشرم میں پھنسے ہوئے تمام 1341لوگوں کے سفر کے لئے آفات سماوی انتظامیہ‘ مدد اور بازآبادی محکمہ نے 17اپریل کے روز لاتو ر انتظامیہ کو احکامات جاری کئے‘ اور سماجی دوری کی برقراری کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔

 

پونے(دیہی) پولیس کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ”اتوار کے روز 40بسوں میں مذکورہ آشرم میں پھنسے ہوئے تمام بھگتوں کو نکال کر ان کے گھر پہنچانے کاکام کیاگیا ہے“۔

ایسے اقدامات قابل ستائش ہوتے ہیں مگر ایسے ہی اقدامات پھنسے ہوئے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے ساتھ کئے جانے چاہئے تھے۔ واضح رہے کہ مرکز نے ایس ڈی ایمس اور پولیس کو مکتوب لکھ لکھ کر گاڑیوں کے لئے پاسیس کی اجرائی کی مانگ کرتا رہا ہے۔

مگر ان کی درخواست کو نظر انداز کردیاگیاتھا۔ ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق مہارشٹرا بھر کے کیمپس میں کم سے کم پانچ لاکھ لوگ پھنسے ہوئے جنھیں نکال کر ان کے گھروں تک پہنچانے کے لئے آشرم لوگوں کے لئے کئے گئے انتظام کے طرز پر کوئی اقدام نہیں اٹھایاگیا گیا ہے