جنتا کرفیو کے ایک سال بعد‘ کرونا وائرس کا دوبارہ بڑھتا خطرہ

,

   

وزیراعظم نریندر مودی کی قومی سطح پر اعلان کردہ کرفیو کی اپیل پر ردعمل کے طور پر لوگ ملک بھر میں 22مارچ2020کو اپنے اپنے گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے


نئی دہلی۔کرونا وائرس وباء دوبارہ ہندوستان میں اپناقہر ڈھارہی ہے جہاں پر ایک سال قبل آج کے دن جنتا کرفیو تھا‘ جو وباء کے اثر کو کم کرنے کے لئے ملک بھر چلنے والے دو ماہ سے طویل وقت کے لاک ڈاؤن کی شروعات کا دن تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قومی سطح پر اعلان کردہ کرفیو کی اپیل پر ردعمل کے طور پر لوگ ملک بھر میں 22مارچ2020کو اپنے اپنے گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔

عام طور پر 5بجے شام کے وقت لوگ گھروں سے باہر نکلتے‘ گھنٹیاں بجاتے‘ تالیاں بجاتے اور برتن بجاتے تاکہ صحت اور دیگر شعبوں میں ضروری اقدامات انجام دینے والے لوگوں کے ساتھ اظہار یگانگت کی جاسکے۔

پچھلے سال جنوری30کے روز ہندوستان کے کیرالا سے پہلا کویڈکا معاملہ منظرعام پر آیاتھا۔ پہلی موت10مارچ کے روز کرناٹک میں ہوئی تھی۔

لاک ڈاؤن 25مارچ سے 31مئی تک ملک بھر میں جاری رہا جس نے معیشت کو پوری طرح تباہ کردیاتھا۔

جیسے ہی ماہ جون سے حکومت نے ان لاک کی مشق کی پہل کی تاکہ لاک ڈاؤن کی وجہہ سے بدحال معیشت کو تھام سکے‘ مذکورہ کویڈ19کے معاملات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہونے لگا اور امریکہ کے بعد ہندوستان ماہ ستمبر تک کویڈ کی وجہہ سے دنیا کا دوسرا سب سے متاثر ملک بن گیاتھا۔

منظم طریقے سے ملک میں لاک ڈاؤن کے طریقہ کار میں نرمی کے ذریعہ اس کو کم کیاگیا‘ وزرات صحت نے مذہبی مقامات‘ شاپنگ مالس‘ ریسٹورنٹس‘ ہوٹلوں اور دفاتروں کی دوبارہ کشادگی کے لئے معیاری حکمت عملی اختیار کی تھی۔

ستمبر کے مہینے میں کرونا وائرس کی تعداد میں یومیہ اساس پر اضافہ کے ساتھ 97,894تک وائرس کے 17ویں دن تک پہنچ گئے‘ اس کے بعد معاملات میں آہستہ آہستہ کمی ہے جبکہ دیگر ممالک میں وباء کے معاملات میں اضافہ دیکھا گیاہے۔

ہندوستان نے 19ڈسمبر کے روز کویڈ 19کے معاملات میں ایک کروڑ کا نشانہ عبور کرلیا‘ یہاں تک کہ وائرس کی شدت میں کمی ائی تو ایک ماہ میں 10لاکھ معاملات درج کئے گئے ہیں‘اگست اور نومبر کے وسط میں جب معاملات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا تھا۔

اسی دوران کم اور بڑھتے معاملات کے بیچ ہندوستان نے پی پی ای کٹس‘ این 95ماسک کی تیاری کو فروغ دیا اور بڑی کامیابی کے ساتھ اس کام کو انجام بھی دیاہے۔

اسی وقت کے دوران دو ٹیکہ ملک نے پیش کرنے کاکام کیا‘ بھارت بائیو ٹیک کی کویکسین اور اکسفورڈ اسٹرا زینیکا کی کویڈشیلڈ جس کو سیریم انسٹیٹیوٹ نے تیار کیاہے جس کو جنوری 3کے روز نیشنل ڈرگ ریگولیٹری نے منظوری دیدی اور آج کی تاریخ تک 4.50کروڑ لوگوں نے ٹیکہ کی خوراک لی ہے جن کی نگرانی ملک میں کی جارہی ہے۔

اموات کے معاملہ میں ہندوستان چوتھے نمبر پر آتا ہے