حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات مشعلِ راہ

   

حافظ محمد صابر پاشاہ
آج کا انسان سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور مادّی آسائشوں کے باوجود شدید روحانی خلاء، اخلاقی زوال اور معاشرتی بے چینی کا شکار ہے۔ بظاہر سہولتوں کی فراوانی ہے مگر دلوں میں سکون ندارد، رشتوں میں اخلاص کم اور مفادات کی کشمکش زیادہ ہے۔ ایسے نازک حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اُن عظیم ہستیوں کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں جنہوں نے اپنے کردار، فکر اور روحانیت کے ذریعے انسانیت کو سنوارا۔ انہی نفوسِ قدسیہ میں ایک عظیم المرتبت نام حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کی تعلیمات آج بھی اصلاحِ معاشرہ کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ آج علم تو عام ہے مگر عمل مفقود، جس کی وجہ سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہے۔ غوثِ اعظم ؒنے اس حقیقت کو اُجاگر کرتے ہوئے علم کے ساتھ خوفِ خدا اور عمل کی تلقین فرمائی۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک روشن واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ جب آپ بغداد کی طرف سفر کررہے تھے تو راستے میں ڈاکوؤں نے قافلہ لوٹ لیا۔ آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے بلا جھجھک فرمایا کہ میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں۔ تلاشی لینے پر وہ برآمد ہوئیں۔ آپ کی سچائی سے متاثر ہوکر ڈاکوؤں کا سردار توبہ کرگیا اور اس کے ساتھی بھی راہِ راست پر آگئے۔
اخلاص ہر نیکی کی روح ہے۔ آج کے دور میں ریاکاری اور دکھاوا عام ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے اعمال کی روحانیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ غوثِ اعظمؒ نے اخلاص کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے ہر عمل کو خالص اللہ کے لئے کرنے کی تلقین فرمائی۔معاشرتی بے سکونی کی ایک بڑی وجہ اللہ پر عدمِ بھروسہ ہے۔ غوثِ اعظم ؒنے توکل کو ایمان کی بنیاد قرار دیا۔معاشرتی برائیوں کی جڑ انسان کا بگڑا ہوا باطن ہے۔ حسد، بغض، تکبر اور ریاکاری جیسے امراض معاشرے کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔ غوثِ اعظم ؒنے ان بیماریوں کے علاج کیلئے صالحین کی صحبت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ایک روایت کے مطابق ایک شرابی شخص آپ کی مجلس میں آیا۔ آپ کی نگاہِ کرم اور وعظ کا ایسا اثر ہوا کہ وہ زار و قطار رونے لگا اور سچی توبہ کرلی۔ بعد میں وہی شخص نیک اور پرہیزگار بن گیا۔
آج کا سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے، نفرت اور انتقام کا جذبہ بڑھتا جارہا ہے۔ ایک شخص نے آپ کی مجلس میں گستاخی کی، مگر آپ نے نہایت نرمی اور صبر سے کام لیا۔ آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر وہ شخص توبہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔آپ ؒ نے حلال رزق کو روحانی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حلال رزق دل کو زندہ جبکہ حرام رزق اسے مردہ کردیتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں حلال و حرام کی تمیز کمزور پڑتی جارہی ہے۔ آپؒ کی تعلیمات محض روحانیت تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہیں۔ اگر آج کا انسان سچائی، اخلاص، توکل، حلال کمائی اور برداشت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے تو معاشرہ امن، محبت اور اُخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔