حکومت شاہین باغ سے وائرس پھیلنے کا خطرہ ظاہر کررہی ہے لیکن این پی آر کیلئے ہزاروں لوگ گھر گھر جائیں گے تو کیا اس سے نہیں بڑھے گا؟ ایڈوکیٹ محمود پراچہ

,

   

نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ کے احتجاج، پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کی وضاحت اور کورونا وائرس کے خوف سے ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے صاف کردیا کہ پورے ملک سے شاہین باغ کے دھرنے اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک مراکزی حکومت پارلیمنٹ میں یہ قانون واپس نہیں لے گی۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ سے حکومت کو کوروناوائرس کا خطرہ ہے جبکہ سرکاری دفاتر، ریلوے، ہوائی جہاز، میٹرو، بسیں وغیرہ میں سفرکرنے والوں سے کوئی خطرہ نہیں؟ محمود پراچہ نے کہا کہ یہ سب دھرنے ختم کروانے کی سازش ہے اور ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤز میں امیت شاہ کے بیان پر محمود پراچہ نے کہا کہ کچھ نام نہاد سیکولر لوگ امیت شاہ کی بات پر یقین کررہے ہیں اور دوسری طرف شاہین باغ جاکر تقاریر بھی کررہے ہیں، میں پوچھنا چاہتاہوں کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جو خود کو ان خواتین کا لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ شاہین باغ کی ہر خاتون اپنے آپ میں ایک لیڈر ہے۔ ایڈوکیٹ پراچہ نے این پی آر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آخر ایسی کونسی ایمرجنسی ہے کہ حکومت یہ عمل شروع کرنے بضد ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہیں کہ ملک میں کوروناکا خطرہ ہے اس لئے ایک دوسرے سے روابط کم رکھیں دوسری طرف ہزاروں لوگ گھر گھر جاکر لوگوں سے ملاقات کریں گے تو کیا اس سے کورونا نہیں پھیلے گا؟ واضح رہے کہ محمود پراچہ شاہین باغ میں بیٹھیں خواتین کے لیگل ایڈوائزر ہیں۔