ازخود پابندیوں کے مشورے وزیراعظم کا عوام کو گمراہ کرنے کا نیا انداز ،طاہر بن حمدان کی سیاست نیوز سے بات چیت
اقتدار کے نشہ میں حاکمانہ سیاست زیادہ دن نہیں چل سکتی
نرمل ۔12مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ملک کے جلیل القدر عہدہ پر فائز وزیراعظم نریندر مودی کی دو دن قبل تقریر میں یہ کہنا کہ پٹرول ڈیزل کی کھپت کم کریں، میٹرو الیکٹرک بسوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں۔ وزیراعظم کی جانب سے عوام کو مشورہ ینا آخر کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے ؟ یہ بات مکمل طورپر ملک میں انتخابات کا اختتام ہوتے ہی ہمارے وزیراعظم کو کیوں یاد آئی ؟ یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہ عوام کو مشورہ نہیں حکومت کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے ، ان خیالات کا اظہار ریاست تلنگانہ اُردو اکیڈیمی کے صدرنشین مسٹر طاہر بن حمدان جو ایک ہفتہ سے نرمل میں بوتھ لیول سے پارٹی کی کمیٹیوں کی تشکیل میں سرگرم ہیں مقامی دفتر سیاست نرمل میں سینئر صحافی و اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست سید جلیل ازہر و ڈیویژن رپورٹر سید اسمٰعیل ناصر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ سونا مت خریدو بیرون ملک مت جاؤ ، پٹرول کا استعمال کم کرو ، تیل کم استعمال کرو ، گھر سے کام کرو ، آخر عوام نے ان ہی اچھے دنوں کیلئے اُنھیں اقتدار سونپا تھا ۔ آخر اس طرح پابندیاں لگائی جائیں گی تو حکومت کے ہاتھ سے معیشت کی لگام چھوٹ جانے کے دن قریب نظر آرہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ عوام ویسے تو دیڑھ لاکھ روپیہ تولہ سونا خریدنے کے موقف میں نہیں ہے۔ پھر سونا نہ خریدنے کا مشورہ کیوں دیا جارہا ہے ؟ طاہر بن حمدان نے کہاکہ اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی مندر مسجد ، ہندو مسلمان کے نام پر حکمرانی کررہی تھی اب اچانک ایک نئے انداز سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں دوران انتخابات یہ بات کیوں نہیں کہی گئی ؟ جبکہ بنگال کے انتخابی نتائج پر آج بھی عوام بلکہ وہ لوگ جو سیاست کی الف ب سے واقف نہیں یہ کہہ رہے ہیں کی بی جے پی نے اس ریاست میں صاف ذہن رکھنے والوں کے ووٹوں کو ووٹر لسٹ سے غائب کردیا ۔ اب ان کی نگاہیں ریاست تلنگانہ پر ہے جو گنگا جمنی تہذیب کی ایک جیتی جاگی تصویر ہے ، فلاحی اور ترقیاتی کام سے ریاست کا ہر طبقہ مطمئن ہے بلکہ ریونت ریڈی کی مستحکم قیادت اور فلاحی اسکیمات کے تناظر میں آئندہ پھر ایک بار ریاست تلنگانہ میں کانگریس بھاری اکثریت سے اقتدار پر آئیگی۔ مرکزی حکومت کو یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ اقتدار کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے مستقل نہیں ہوتا ۔ عوام کے غیض و غضب کے سامنے حاکمانہ سیاست زیادہ دن نہیں چل سکتی ۔ اقتدار کے نشہ میں من مانی فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت کو حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہر قائد کو یہ بات ذہن نشین کرلینا چائے کہ طوفان میں ’’کشتیاں ‘‘ اور گھمنڈ میں ’’ہستیاں‘‘ ڈوب جایا کرتی ہیں۔