خاطی پروفیسر کو بحال کرنے کے خلاف بی ایچ او طلبہ کا احتجاج

,

   

واراناسی۔بنارس ہندو یونیورسٹی(بی ایچ یو) کے طلبہ نے مبینہ طو ر پر خاطی پائے جانے والے برطرف پروفیسر ایس کے چوبے کی بحالی کے خلاف احتجاج کیا جس پر کچھ خواتین کے جسم حصوں کولے کر بے ہودہ تبصرہ کرنے کا قصور وار پایاگیاتھا۔

ہفتہ کی رات میں مذکورہ طلبہ نے چوبے کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ہاتھوں میں پلے کارڈ س تھامے مذکورہ طلبہ بی ایچ یو انتظامیہ کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔

تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہاکہ پروفیسر پر فی الحال امتناع ہے اور اس کو کوئی ذمہ داری کا پوسٹ نہیں دیاگیا۔

بی ایچ یو راجسٹرار نیرج ترپاٹھی نے کہاکہ ”سابق میں بھی وہ برطرف کردیاگیاتھا مگر اب اس پر امتناع ہے۔

مذکورہ معاملے کو بی ایچ یو کے اعلی فیصلہ ساز باڈی کے پاس پیش کیاجائے گا“۔

انہوں نے کہاکہ ”مذکورہ وائس چانسلر نے شکایت پر کاروائی کی اور اس کو برطرف کردیا۔

بعدازاں ایک تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ پیش کی اور بی ایچ یو کے فیصلہ ساز باڈی نے پروفیسر کو امتناع عائد کردیاہے۔

اسکے پاس نہ تو کوئی عہدہ ہے اور ہی بی ایچ یو میں کوئی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے نہ ہی کسی تقریب میں وہ شرکت کرسکتا ہے یا پھر دیگریونیورسٹی اور کالج میں وہ درخواست کرسکتا ہے“۔

مذکورہ طلبہ نے شکایت کی تھی کہ 2018اکٹوبر میں پونے کے دورے کے موقع پر چوبے نے کچھ لڑکیوں کے جسم کے قد وخال کا مذاق اڑاتے ہوئے بے ہودہ تبصرہ بھی کیاتھا۔

دورے سے واپس آنے کے بعد طلبہ نے پروفیسر کے خلاف ایک شکایت درج کرائی تھی۔

مذکورہ بی ایچ یو انتظامیہ نے ان الزامات کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے بعد پروفیسر کو معطل کردیا۔ طلبہ کے بیان پر رپورٹ میں مذکورہ کمیٹی نے چوبے کو خاطی پایاتھا