جعلی این او سی تحقیقات میں پولیس کو اہم سراغ

   

بہت جلد خاطی پکرا جائے گا، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد ۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) وقف بورڈ سے جعلی این او سی اجرائی کی تحقیقات میں پولیس کو اہم کامیابی کی اطلاع ملی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس نے وقف بورڈ کے جن چار ملازمین کو تفتیش کے لئے تحویل میں لیا تھا ، ان سے اہم سراغ حاصل ہوا ہے جس کی بنیاد پر پولیس بہت جلد کسی نتیجہ پر بہت جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ جعلی این او سی کی اجرائی کے معاملہ میں وقف بورڈ کا اندرونی عملہ ملوث ہے۔ تاہم حقیقی خاطی کی نشاندہی ابھی نہیں کی جاسکی۔ تفتیش کے دوران وقف بورڈ میں جاری دیگر بے قاعدگیوں سے متعلق بھی کئی اہم انکشافات کی اطلاعات ملی ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر شاہنواز قاسم آئی پی ایس تحقیقات کی راست نگرانی کر رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے چار ملازمین کی جانب سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر اسکام میں ملوث بیرونی عناصر کو حراست میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پولیس گزشتہ چار دنوں سے رنگا ریڈی کے انسپکٹر آڈیٹر وقف ، پروٹیکشن سیکشن کے سپرنٹنڈنٹ ، کلرک اور اٹینڈر سے تفتیش کر رہی ہے۔ جعلی این او سی کے ذریعہ جس شخص نے کلکٹر آفس میں اراضی سے متعلق درخواست داخل کی ، اس کا پتہ چلانے کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیم متحرک ہوچکی ہے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بتایا کہ جعلی این او سی معاملہ میں بورڈ کا اندرونی عملہ ملوث دکھائی دے رہا ہے۔ اندرون دو یوم امکان ہے کہ حقیقی خاطیوں کا پتہ چل جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی قصور وار پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ محمد سلیم نے کہا کہ 3 جنوری کے اجلاس میں جعلی این او سی مسئلہ پر مباحث ہوں گے اور مستقل چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کا معاملہ بھی زیر بحث آسکتا ہے۔