حیدرآباد۔8۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) دونوں شہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد میں زیر زمین سطح آب میں مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور ایک سال کے دوران 6.85 میٹر گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں زیر زمین سطح آب 10 میٹر نیچے تک پہنچ چکی ہے جو کہ تشویشناک حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ ملکا جگری میونسپل کارپوریشن اور سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں زیر زمین پانی کی سطح میں تشویشناک کمی کے نتیجہ میں آئندہ چند ماہ کے دوران پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے۔رپورٹ کے مطابق مانسون کی آمد سے قبل ماہ مئی کے دوران شہر حیدرآباد میں 0.42 میٹر زیر زمین سطح آب میں بہتری ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اس بہتری کو ماہرین ناکافی قرار دے رہے ہیں کیونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران 6میٹر سے زیادہ کمی ریکارڈ کئے جانے کے بعد معمولی اضافہ پانی کی قلت میں کمی کو دور کرنے کا سبب ثابت نہیں ہوگا۔مانسون میں ناکافی بارش کے دوران ماہ اگسٹ اور ستمبر کے دوران کی گئی پیمائش سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ دو ماہ کے دوران زیر زمین پانی کی سطح میں 0.36 میٹر گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق ریاست میں مجموعی اعتبار سے 17 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ شہر حیدرآباد کے حدود میں 26فیصد سے زائد کم بارش مانسون کے دوران ریکارڈ کئے جانے کے نتیجہ میں مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔شہر حیدرآباد میں جہاں سال گذشتہ مانسون کے دوران 619 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جاریہ سال محض 457ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ سال گذشتہ کے مقابلہ 26 فیصد کم ہے۔ دونوں شہروں کے مختلف علاقوں اور زونس میں زیر زمین سطح آب کا جائزہ لیا جا رہاہے اور اس با ت کی توثیق کی کوشش کی جار ہی ہے کہ کس علاقہ میں زیر زمین سطح آب کتنی ہے۔ریاست کے 46 منڈلوں میں حکومت کی جانب سے زیر زمین سطح آب کا جائزہ لیا جا رہاہے اور مجموعی طور پر شہر حیدرآباد میں زیر زمین سطح آب جو ریکارڈ کی جا رہی ہے اس کے مطابق شہر میں 11.56میٹر نیچے پانی پہنچ چکا ہے۔دونوں شہروں کے علاوہ مضافاتی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح آب کے سلسلہ میں کہا جارہاہے کہ کسی بھی علاقہ میں زیر زمین سطح آب یکساں نہیں ہے ۔شیرلنگم پلی کے علاقہ میں زیر زمین پانی 2میٹر سے بھی کم پر دستیاب ہے جبکہ کوکٹ پلی کے علاقوں میں زیر زمین پانی 47.23 میٹر بھی مشکل سے دستیاب ہورہا ہے ۔رپورٹس کے مطابق CUREکے حدود میں 2 فیصد سے بھی کم علاقہ میں 5میٹر سے کم زیر زمین سطح پر پانی دستیاب ہے جبکہ 22 فیصد علاقہ میں 5تا10 میٹر زیر زمین پانی دستیاب ہے۔اس کے علاوہ 24فیصد علاقہ میں 10تا15میٹر نیچے پانی دستیاب ہورہا ہے اور 6فیصد شہری علاقہ ایسا ہے جہاں 20 میٹر سے بھی نیچے زیر زمین پانی دستیاب ہورہا ہے۔3