دو سے زائد بچوں پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کو چیلنج

   

تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست، حکومت کو نوٹس کی اجرائی

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 2 سے زائد بچے رکھنے والے افراد پر مقابلہ کرنے اور پابندی کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کی ہے۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے موقف کی وضاحت طلب کی ۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سریدھر بابو اور محمد طاہر کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کی ہے۔ درخواست میں جی ایچ ایم سی ایکٹ 1995 ء کے سیکشن 21B کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی۔ درخواست گزاروں نے اس دفعہ کو غیر دستوری قرار دیا۔ مئی 1955 کے بعد دو بچوں کی پیدائش کی صورت میں کوئی بھی شخص بلدی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا ۔ درخواست گزاروں نے تلنگانہ میونسپلٹیز ایکٹ 2019 ء کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس قانون کے تحت میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنوں میں دو بچوں کی حد کو ختم کردیا گیا ہے۔ عدالت نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 19 نومبر کو مقرر کرتے ہوئے حکومت کو وضاحت کی ہدایت دی۔