دھونی+ کوہلی = مکل چودھری؟

   

نئی دہلی، 10 اپریل (آئی اے این ایس) انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں لکھنؤ سوپر جائنٹس کے نوجوان بیٹر مکل چودھری نے اپنی غیر معمولی کارکردگی سے کرکٹ شائقین اور ماہرین کو حیران کردیا ہے اور انہیں نیا سوپر اسٹار تصور کیا جارہا ہے ۔کولکاتا نائٹ رائیڈرزکے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں ان کی میچ جتوانے والی اننگز نے نہ صرف ٹیم کو شاندار فتح دلائی بلکہ انہیں لیگ کے ابھرتے ہوئے بڑے ناموں میں شامل کردیا۔ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے اس دلچسپ مقابلے میں لکھنؤکو جیت کے لیے آخری اوورز میں مشکل ہدف درپیش تھا، تاہم مکل چودھری نے انتہائی اعتماد، حوصلے اور جارحانہ انداز کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے27 گیندوں پر ناقابلِ شکست 54 رنز اسکورکیے۔ ان کی اننگز میں سات ہمالیائی چھکے اور دو چوکے شامل تھے، جس کے ذریعہ انہوں نے نہ صرف رنزکی رفتار کو تیزکیا بلکہ آخری گیند پر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ اس یادگار کارکردگی پر ردعمل دیتے ہوئے سابق جنوبی افریقی کپتان فاف ڈو پلیسی نے مکل چودھری کی بیٹنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے کچھ شاٹس، خاص طور پر لیگ سائیڈ پرکھیلے گئے ہمالیائی چھکے ماضی کے عظیم فنشر مہندر سنگھ دھونی کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں مکل نے دباؤ کے لمحات میں خود اعتمادی کے ساتھ کھیل کو انجام تک پہنچایا، وہ کسی تجربہ کارکھلاڑی کی خصوصیت ہوتی ہے۔ ڈو پلیسی کے مطابق اس میچ میں اتار چڑھاؤ بھرپور تھا، لیکن آخر میں جس طرح لکھنؤ سوپر جائنٹس نے کامیابی حاصل کی، وہ ٹیم کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے لمحات پورے سیزن کی سمت متعین کرتے ہیں اور مکل چودھری کی یہ اننگز اسی نوعیت کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ دوسری جانب ٹیم کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے بھی نوجوان بیٹر کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک ‘‘مکمل ایتھلیٹ’’ قرار دیا۔ لینگر نے کہا کہ مکل کی وکٹوں کے درمیان دوڑ انتہائی شاندار ہے اور اس میں انہیں ہندوستانی اسٹار ویراٹ کوہلی کی جھلک نظر آتی ہے، جو اپنی تیز رفتاری اور فٹنس کے لیے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مکل کا گیم سینس بھی غیر معمولی ہے۔ ان کے مطابق، وہ جس طرح کھیل کو سمجھتے ہیں اور حالات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے وہ کئی سالوں سے بین الاقوامی سطح پر کھیل رہے ہوں۔ لینگر نے یہ بھی بتایا کہ مکل ایک سیکھنے والے کھلاڑی ہیں، جو اپنی کمزوریوں پر مسلسل کام کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر باؤنس اور شارٹ بال کے خلاف اپنی تکنیک کو بہتر بنایا ہے۔لینگر نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ ٹیم کے ڈیٹا اینالسٹ سری نواس چندر شیکھرن نے مکل چودھری کی صلاحیتوں کو سب سے پہلے پہچانا اور ٹیم مینجمنٹ کو انہیں شامل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق ہندوستان میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، لیکن صحیح وقت پر صحیح کھلاڑی کی شناخت کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔میچ کے تناظر میں بات کریں تو لکھنؤ سوپر جائنٹس کو آخری چار اوورز میں 54 رنز درکار تھے، جو ایک مشکل ہدف سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم مکل چودھری نے نہ صرف دباؤکو برداشت کیا بلکہ ذمہ داری لیتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور میچ کو آخری گیند تک لے جا کر کامیابی میں بدل دیا۔EH