ایک مقامی رہائشی نے بتایا، “پولیس کا موقف تھا کہ شہریوں کو اس احتجاج میں حصہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔”
نئی دہلی: اطلاعات کے مطابق دہلی پولیس رہائشیوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے اس احتجاج میں شامل نہ ہوں جس کا اہتمام ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے کیا ہے اور جسے بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔
‘دی ہندو’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس 7 سے 10 اکتوبر کے دوران شہریوں کو بڑی تعداد میں جمع ہونے سے روکنے کے لیے پی جی مالکان، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور ریذیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز کے ساتھ مقامی سطح پر اجلاس کر رہی ہے۔
چاندنی محل کے علاقے میں سیکیورٹی سے متعلق ایسی ہی ایک بریفنگ میں موجود سماجی کارکن محمد شاہد گنگوہی نے بتایا کہ حکام نے انہیں “امن و امان برقرار رکھنے کی اہمیت” پر زور دیا۔
“پولیس کا موقف تھا کہ شہریوں کو احتجاج میں حصہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس سے نئی دہلی کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔”
گنگوہی نے بتایا کہ جب کچھ رہائشیوں نے نشاندہی کی کہ احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے، تو پولیس نے جواب دیا کہ اس پر آئینی حدود بھی لاگو ہوتی ہیں۔ گنگوہی کا اپنا خاندان ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن’ مہم کے اثرات دیکھ چکا تھا کیونکہ مبینہ طور پر ووٹر لسٹوں سے ان کے چھ بیٹوں کے نام خارج کر دیے گئے تھے۔
دہلی پولیس نے دکانداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی دکانیں آدھی رات تک کھلی رکھنے کے بجائے رات 11:30 بجے ہی بند کر دیں۔ گنگوہی نے کہا، “ہم نے پولیس کو بتایا کہ ہم تعاون کریں گے اور شہریوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ ہجوم میں شامل نہ ہوں۔ تاہم، ہم نے یہ بھی کہا کہ پچھلی بار دکانیں زبردستی بند کروانے کے لیے پولیس کی جانب سے اپنائے گئے سخت ہتھکنڈوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے جولائی میں پولیس کی سابقہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “افسران نے مٹھائی کی ایک مقامی دکان پر ابلتے ہوئے دودھ کی کڑاہی میں دہی کا ایک برتن ڈال دیا تھا۔ ہم اس بار ایسی کارروائیاں برداشت نہیں کریں گے۔”
‘شہریوں سے اپیل کرنے والی پولیس فورس آخر ہوتی کون ہے؟’
ان دعووں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان نے زور دے کر کہا کہ وہ پرامن احتجاج جاری رکھیں گے، “چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”
”پولیس فورس آخر کون ہوتی ہے جو شہریوں سے کسی احتجاج میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ’اپیل‘ کرے؟ یہ سراسر غیر آئینی ہے!“ داس نے ’ایکس‘ پر کہا۔ ”ہم بہرصورت پرامن احتجاج کریں گے۔ احتجاج کا حق ہمارا آئینی طور پر ضمانت شدہ بنیادی حق ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہمیں ’جنتر منتر‘ دے دیں ورنہ پوری دہلی کو اسی (احتجاجی مقام) میں تبدیل ہوتے دیکھیں۔“