روس اور یوکرین کے ایک دوسرے کیخلاف ’ریکارڈ‘ ڈرون حملے

   

ماسکو: صدر زیلنسکی کے مطابق ماسکو نے ایک رات میں یوکرین پر 145 ڈرون فائر کیے جبکہ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس نے ستر یوکرینی ڈرون مار گرائے۔ ایک اعلیٰ برطانوی فوجی اہلکار کے مطابق اکتوبر میں روسی فوج کو ریکارڈ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے خلاف بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کے روز کہا کہ روس نے رات بھر میں یوکرین پر 145 ڈرون فائر کیے، جو جنگ میں اب تک کسی ایک رات کے حملے میں استعمال کیے گئے ڈرونز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کییف کے مغربی شراکت داروں سے ملکی فضائی حدود کی حفاظت میں مدد کے لیے سامان فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ”گزشتہ رات، روس نے یوکرین کے خلاف ریکارڈ 145 شاہد اور دیگر ڈرونز کاحملہ کیا۔‘‘اس سے قبل ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک بڑے یوکرینی ڈرون حملے نے ماسکو اور اس کے مضافات میں ہلچل مچا دی۔ روسی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک خاتون زخمی ہو گئی جبکہ روس کے کچھ مصروف ترین ہوائی اڈوں پر ٹریفک عارضی طور پر روک دی گئی۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کل 70 ڈرونز کو راتوں رات روسی علاقوں میں مار گرایا گیا، جن میں سے 34 ماسکو کے مضافات میں تباہ کیے گئے۔ اس دوران برطانیہ کے ایک اعلیٰ دفاعی اہلکار نے کہا کہ روسی افواج کو فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے گزشتہ اکتوبر میں سب سے ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ کے دفاعی عملے کے سربراہ ٹونی راڈاکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ماسکو کے یومیہ اوسطاً 1500 فوجی ہلاک و زخمی ہوئے، اس صورتحال نے جنگ میں ان روس کے مجموعی جانی نقصانات کو 700,000 تک پہنچا دیا۔