ماسکو : 13 مئی ( یو این آئی ) روس نے اپنے جدید ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’سرمت‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جسے روسی صدر پوٹن نے دنیا کا سب سے طاقتور نیوکلیئرمیزائل قرار دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف نے منگل کے روز صدر پوٹن کو میزائل کے کامیاب تجربہ سے متعلق بریفنگ دی۔صدر پوٹن نے کہا کہ روس رواں سال کے اختتام تک سرمت میزائل کو باضابطہ طور پر اپنی فوجی سروس میں شامل کر لے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جدید نیوکلیئرمیزائل ہزاروں میل دور امریکہ اور یورپ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔روسی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں پوٹن نے کہا کہ سرمت میزائل کے وارہیڈ کی طاقت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی نظام سے چار گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔روسی صدر کے مطابق یہ میزائل موجودہ اور مستقبل کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں کو بھی چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے روس کی دفاعی اور اسٹریٹیجک طاقت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔سرگئی کاراکائیف نے کہا کہ سرمت میزائل سسٹم سے لیس لانچرز کی تعیناتی روسی فوج کی جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گی اور ملک کے اسٹریٹیجک دفاعی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔دفاعی ماہرین کے مطابق روس کا یہ نیا میزائل عالمی طاقتوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ کو مزید تیز کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔