ریاستی وزیر کے قتل کی سازش سے میرا کوئی تعلق نہیں : جیتندر ریڈی

   

سی بی آئی یا عدالتی تحقیقات کا مطالبہ، جہدکاروں اور پارٹی کارکنوں کی دہلی آمد معمول کا عمل
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ جیتندر ریڈی نے ریاستی وزیر سرینواس گوڑ کے مبینہ قتل کی سازش سے متعلق الزامات کی جامع تحقیقات کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ جیتندر ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو اگر سی بی آئی پر اعتبار نہیں ہے تو اِس معاملہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس معاملہ میں ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے اُن پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ جیتندر ریڈی نے بتایا کہ وہ ریاست کی صورتحال کے بارے میں بی جے پی اعلیٰ کمان کو واقف کرائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی وزیر کے قتل کی سازش آخر کیوں اور کس نے تیار کی، اس بارے میں تلنگانہ عوام کو واقف کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ اِس معاملہ میں تحقیقات کے لئے پولیس سے مکمل تعاون کریں گے۔ جیتندر ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ جہدکاروں کے مجھ سے قریبی روابط ہیں اور جہدکاروں کو قیام کی سہولت فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے۔ 26 فروری کو ایم روی جو تلنگانہ کے جہدکار ہیں، نئی دہلی میں میری قیامگاہ آئے تھے۔ وہ شخصی کام پر نئی دہلی پہونچے۔ روی کے ساتھ کون نئی دہلی پہونچے تو اِس بارے میں مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ وہ 28 فروری کو روانہ ہوگئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ محبوب نگر سے پارٹی کارکن نئی دہلی آنے پر اُن کی قیامگاہ ضرور آتے ہیں۔ اُنھوں نے انکشاف کیاکہ ایم روی ہر ہفتہ چیف منسٹر کے سی آر سے پرگتی بھون میں ملاقات کرتے ہیں۔ ابھی تک اُن پر کوئی الزامات نہیں ہیں۔ جیتندر ریڈی نے محبوب نگر میں اُن کی قیامگاہ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کو مشتعل کرنے کے لئے یہ حملہ کیا گیا۔ ہم کسی کو قتل کرنے والے نہیں ہیں اور میرے گھر پر حملہ کے وقت پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ پولیس دراصل چیف منسٹرکے سی آر کے ایجنٹ کی طرح کام کررہی ہے۔ اُنھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ تلنگانہ میں پرامن ماحول کی برقراری کے اقدامات کرے۔ ر