موصولہ ایجنڈہ میں بعض اہم امور کی عدم شمولیت پر بورڈ کے ارکان حیرت زدہ
حیدرآباد۔5۔اپریل(سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ کے 6 اپریل کو ہونے والے اجلاس کے سلسلہ میں روانہ کردہ ایجنڈہ پر بورڈاراکین نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ بورڈ کے جن عہدیداروں نے ایجنڈہ تیارکیا ہے وہ اصول و ضوابط کے بجائے اپنی مرضی کا ایجنڈہ تیار کرنے کے مرتکب ہوئے ہیںکیونکہ ہنگامی حالات میں جن اوقافی ادارہ جات کے احکامات کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کرنے کی شرط رکھی گئی تھی ان احکامات کو اجلاس کے ایجنڈہ میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے اور بعض مساجد کی کمیٹیوں اور تولیت کے معاملات میں نامکمل تفصیلات پیش کرتے ہوئے اپنی مرضی کی کمیٹیوں اور تولیت کو منظور کروانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سابق میں رکن وقف بورڈ مولانا سید ابولفتح بندگی پاشاہ قادری نے اراکین وقف بورڈ کو کم از کم ایک ہفتہ قبل ایجنڈہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اجلاس کو ملتوی کروایا تھا جس کے نتیجہ میں اس مرتبہ اس اجلاس سے قبل مرحلہ وار انداز میں ایجنڈہ اراکین کے پاس پہنچایا گیا لیکن اس میں ادھوری معلومات کی فراہمی کے علاوہ برسوں سے زیر تصفیہ امور کو شامل نہیں کیا گیا۔ مولانا سید ابوالفتح بندگی پاشاہ نے ایجنڈہ میں شامل امور کی نامکمل تفصیلات پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر کوئی مسئلہ بورڈ کے غور و خوص کیلئے پیش کیا جا رہاہے تو اس میں تمام فریقین کے ادعا جات اور قانونی رائے بھی پیش کی جانی چاہئے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایجنڈہ تیار کرنے والوں نے اپنے طور پر فیصلہ کرلیا اور صدرنشین و ارکان کے روبرو برائے نام پیش کرتے ہوئے منظوری کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ دو برسوں سے زیر التواء امور کے علاوہ بعض مساجد کی انتظامی کمیٹی کیلئے موصول ہونے والی ایک سے زائد درخواستوں کی رپورٹ اور دونوں ادعا جات کو پیش کرنے کے بجائے ایک ہی کمیٹی کی تفصیلات اس انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے ادارہ میں کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔م