نئی دہلی :دہلی کی ایک عدالت نے جہیز کی مانگ کو لیکر اپنی بیوی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور اسے خودکشی پر اکسانے کے الزام سے ایک شوہر اور اس کے والدین کو بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خاندان کے تانے بانے میں طعنے دینے کی عام حرکتیں ظلم نہیں بن جاتیں۔ دراصل ملزمین پر متاثرہ کو خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ متوفی کو ظلم یا ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ ملزم نے متاثرہ کو خودکشی کے لیے اکسایا ہو۔عدالت نے کہا کہ مقتول کی والدہ کی گواہی سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ متوفی کو طعنے دینے کے علاوہ کوئی ظلم کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ خاندان کے تانے بانے میں طعنے دینے کی عام حرکتیں ظلم نہیں ہیں۔ ظلم کا مطلب آئی پی سی کی دفعہ 498A کے تحت ہراساں کرنا ہے جس کے مقصد سے عورت یا اس کے والدین کو جائیداد کی کسی بھی غیر قانونی مانگ کو پورا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ ایک خاتون نے شادی کے 15 ماہ کے اندر ہی پھانسی لگاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ متوفی کے والدین نے الزام لگایا تھا کہ شوہر اور سسرال والے ان کی بیٹی کو جہیز کے لیے ہراساں کرتے تھے۔ شوہر پر خودکشی کے لیے اکسانے کا بھی الزام تھا۔