برہم طلباء خالی برتنوں کے سڑک پر بیٹھ گئے‘ ہاسٹل میں سہولتوں کی کمی کا الزام
حیدرآباد۔12؍نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول میں پسماندہ طبقے (بی سی) ویلفیر ہاسٹل کے طلباء نے منگل 12 نومبر کو کھانے کے ناقص معیار پر احتجاج کیا اور ہاسٹل میں انہیں در پیش مختلف مسائل پر نعرے لگائے۔ویلادنڈہ منڈل میں احتجاج کیا گیا اور طلبہ نے الزام لگایا کہ ہاسٹل میں بہت کم سہولیات ہیں۔ طلباء نے اہم سڑک بلاک کر دی اور انہیں کھانے کے برتنوں کے ساتھ زمین پر بٹھ کر احتجاج کیا۔اس کے جواب میںبی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ وہ طلباء کو معیاری خوراک سمیت بنیادی ضروریات کی کمی پر احتجاج کرنے کیلئے مجبور کر رہی ہے۔ ہریش راؤ نے ریاست کے زیر انتظام اسکولوں اور ہاسٹلوں کی حالت کو نظر انداز کرنے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وزیر تعلیم ہونے کے باوجود چیف منسٹر سرکاری تعلیمی اداروں کی فکر نہیں کرتے۔سدی پیٹ ایم ایل اے نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت نے اپنے 11 ماہ کے دور اقتدار میں فلاحی اداروں کی ساکھ کو داغدار کیا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ ناگرکرنول میں طلبہ کا احتجاج تلنگانہ حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔تلنگانہ کے سابق وزیر خزانہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تعلیمی اداروں کے مسائل کو جلد از جلد حل کرے۔