حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : شہر کو ممنوعہ فہرست میں شامل کردیا گیا ہے ۔ شہر کے لوگ A-22 لفظ سن کر ہی کانپ رہے ہیں ۔ وہ اپنی زندگی بھر کی محنت سے کمائے گئے مکان ، زمین اور جائیداد پر اپنا حق کھو دینے کے بعد شدید پریشانی میں ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میں کونسا گھر ممنوعہ فہرست میں ہے ۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق A-22 کی فہرست میں وسیع تر علاقے میں ایک لاکھ سے زیادہ جائیدادیں شامل کی گئی ہیں ۔ کسی قسم کے نوٹس یا اشتہار کے بغیر خریدی گئی تعمیرات اور زمین ULC اور جی سرکاری کے نام ممنوعہ فہرست A-22 میں شامل کردی گئی ہیں ۔ کسی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے اگر کوئی مکان بیچتا ہو تو خریدار رجسٹریشن نہیں کروا پارہے ہیں اور وہ اپنے مکانات اور پلاٹوں کی لیز ڈیڈ کے ساتھ رجسٹریشن نہیں کرواپا رہے ہیں ۔ پورے گریٹر میں رجسٹریشن مکمل طور پر روک دی گئی ہے جو گھر انہوں نے برسوں کی محنت سے بنائے تھے ۔ قرض لے کر خریدا گیا تھا ۔ خاص کر فلیٹس ممنوعہ فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔ شہر میں وینچرس ، سوسائٹیز ، کالونیاں ، کثیر المنزلہ عمارتیں ، ممنوعہ فہرست میں شامل کی گئی ہیں ۔ حیدرآباد ، میڑچل اور رنگاریڈی اضلاع میں قیمتی اراضی اور کثیر المنزلہ عمارتیں منجمد کردی گئی ہیں ۔ شہر میں چند دہائی قبل قائم ہونے والی سوسائٹیز کو بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد کے ایرا گڈہ حدود میں واقع واسوی ، جناپریہ ، کلپاترو ، بریگیڈسیٹا ڈیل اپارٹمنٹ کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ اس اپارٹمنٹ میں پانچ ہزار سے زائد خاندان مقیم ہیں ۔ اسی طرح یوسف گوڑہ کے کلیان نگر کے ہاوزنگ سوسائٹی کو بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ بنجارہ ہلز ، فلم نگر ، ایم ایل اے کالونی ، پنجہ گٹہ ، سری نگر کالونی ، جوبلی ہلز ، ایس آر نگر ، امیر پیٹ ، خیریت آباد علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مکانات کو A-22 کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ فتح نگر کے صنعت نگر انڈسٹریل ایریا کو متحدہ ریاست کی کانگریس حکومت نے ریسیڈنشیل ایریا کے طور پر کیا تھا اب اسی مقام کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ ممنوعہ فہرست میں شامل علاقوں کے مکانات یا پلاٹس کے رجسٹریشن این او سی ہونے پر ہی رجسٹریشن کرنے کا ریونیو عہدیداروں نے اعلان کیا جس سے عوام میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔ جس کی وجہ سے بینک سے قرض بھی حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے مکانات کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ پہلے ہی بینک سے لون کی منظوری ہونے والے افراد بینک کے قرض کو واپس کرپائیں گے یا نہیں یہ بینک کیلئے بھی باعث تشویش بنا ہوا ہے ۔۔ ش m/b