مسافرین کی سہولت کے لیے ایک ہزار بسوں کے حصول کا فیصلہ
حیدرآباد۔9۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے تنگ راستوں اور گنجان آبادیوں کیلئے تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ’منی الکٹرک بس‘ خدمات شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ آرٹی سی ذرائع کے مطابق ادارہ نے شہر حیدرآباد کی گنجان آبادیوں میں مسافرین کی سہولت کیلئے 1000 ’منی بس ‘ کے حصول کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ تمام منی بسیں الکٹرک بسیں ہوں گی جو کہ شہر کے ان علاقوں میں چلائی جائیں گی جہاں سڑکیں چھوٹی ہونے کے سبب بس سروس منقطع کردی گئی ہے ۔ شہر حیدرآباد کو2027 تک پٹرول اور ڈیزل سے پاک بنانے کا منصوبہ ہے ۔آر ٹی سی نے جی ایچ ایم سی بلکہ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں الکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے الکٹرک بسوں کی اسکیم کے تحت 2300 بسوں کی خریدی کو منظوری بھی حاصل ہوچکی ہے لیکن ا س کے علاوہ مابقی 700بسیں آر ٹی سی کو اپنے طور پر راست خریدنی ہوں گی ۔آر ٹی سی ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد کے حدود میں جہاں بڑی الکٹرک بسوں کے ذریعہ سفر مشکل ہے ان علاقوں کے لئے 1000 نئی منی بسوں کی خریداری کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور جلد ہی آرٹی سی یہ منصوبہ ریاستی حکومت کو پیش کرتے ہوئے منظوری حاصل کرے گی ۔ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے اس منصوبہ کو منظوری دے دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے علاوہ دونوں شہروں کے کئی محلہ جات جہاں آر ٹی سی بس خدمات کی ضرورت ہے ان محلہ جات تک بھی الکٹرک منی بس سروس کا آغاز ہوجائے گا۔ ریاستی حکومت نے آرٹی سی کیلئے 2000 بسیں خالص کرایہ پر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور منصوبہ پر آرٹی سی کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے منصوبہ تیار کیا جاچکا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد کیلئے 6000 بسیں درکار ہیں لیکن فی الحال شہر حیدرآباد میں 3000 سے بھی کم بسیں چلائی جا رہی ہیں۔پی ایم ای۔ ڈرائیو اسکیم کے تحت ریاست تلنگانہ کیلئے 2700 بسوں کی تخصیص عمل میں لائی جاچکی ہے لیکن ان بسوں کی خریدی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے جبکہ مرکزی حکومت کی اس اسکیم پر عمل آوری کے ذریعہ ہی شہر حیدرآبادکو درکار 6000 بسوں میں نصف تعداد حاصل ہوجائے گی اور مابقی آرٹی سی کی جانب سے اپنے طور پر مکمل کرنے کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے۔3/A/b