شیشہ و تیشہ

   

انورؔ مسعود
مِلتے جُلتے …!!
شاعرانہ اور ظریفانہ ہو گر ذوقِ نظر
زندگی میں جا بجا دلچسپ تشبیہیں بھی ہیں
ریل گاڑی اور الیکشن میں ہے اک شے مشترک
لوگ بے ٹکٹے کئی اِس میں بھی ہیں اُس میں بھی ہیں
…………………………
فرید سحرؔ
آنسو چھلک گئے …!!
بیگم کے ساتھ ہم بھی جو بازار تک گئے
جیب اپنی صاف ہو گئی آنسو چھلک گئے
ہم اُن کے پیچھے اتنا پھرے پاؤں تھک گئے
منزل کے پاس آتے ہی وہ خود کھسک گئے
دعوت سے اُن کوعشق ہے اتنا کہ کیا کہوں
دعوت کا نام لیتے ہی پیچھے لپک گئے
ہم تو بہت ہی طاق تھے لکھنے میں لو لیٹر
اظہار عشق میں مگر ہم ہی اٹک گئے
میک اپ نے اُن کے حُسن کو دو آتشہ کیا
ہم بھی بہت تھے پارسا لیکن بہک گئے
اِس زندگی نے ہم کو تو ٹھینگا دکھا دیا
حالانکہ اُس کے ساتھ بہت دور تک گئے
روکا جو امتحان میں چیٹنگ سے اُن کو میں
شاگرد میرے اپنے ہی مُجھ پر بھڑک گئے
پھانسی کا پھندہ دست حناء میں دیکھ کر
ہم خود ہی آگے بڑھ گئے اور پھر لٹک گئے
بیگن کی طرح تھالی میں رہتے ہیں ہم سحرؔ
مطلب کی بات آتے ہی فوراً لُڑھک گئے
…………………………
تو پھر …!!
٭ مالک نوکر سے : گاڑی آگے کیوں نہیں بڑھ رہی ہے …!؟
نوکر : مالک گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا ہے !
مالک : تو پھر گاڑی واپس گھر لے چلو …!!
کوثر جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’اسکولز کی من مانی …!!‘‘
٭ ہفتہ رفتہ میڈیا میں اُترپردیش کے خانگی اسکول کی پرنسپل کو ایک طالب علم کی ماں کے ساتھ شدید بدتمیزی کرتے ہوئے اور بچوں کو اسکول سے نکالنے کا حکم صادر کرتے دکھایا گیا۔ ماں کا قصوریہ تھا اُس نے کتابیں اسکول کی بجائے باہر سے خریدی تھیں۔
اس خبر کو پڑھ کر کچھ عرصہ قبل سوشیل میڈیا ہی پر دیکھا ایک ویڈیو یاد آیا۔ طنز و مزاح کے انداز میں بنائے گئے اس ویڈیو میں ایک شخص کسی اسکول میں داخلے کی معلومات حاصل کرنے جاتا ہے۔ پرنسپل اسکول فیس، ڈونیشن وغیرہ بتانے کے بعد کہتا ہے کہ اسکول یونیفارم، جوتے، موزے، کتابین، اسٹیشنری، بستہ وغیرہ اسکول سے خریدنا ہوگا۔ بچوں کو آنے جانے اسکول ٹرانسپورٹ استعمال کرنا لازمی ہوگا نیز بچوں کو لنچ اسکول مہیا کرے گا جس کا پیمنٹ بھی آپ کو کرنا ہوگا۔ اس پر سرپرست کہتا ہے یعنی پیمنٹ کے عوض ہر چیز اسکول دے گا۔ جس پر پرنسپل کہتا ہے ہاں…!!۔
اس پر یہ شخص سوال کرتا ہے بچے بھی آپ سے خریدنے ہونگے یا ہم اپنے بچے لاسکتے ہیں…!؟۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
ٹھیک ہے …!!
٭ ایک شخص عرصہ سے ایک ڈاکٹر کے زیرعلاج تھا ۔ مرض پیچیدہ تھا ، اس نے دوسرے ڈاکٹر سے رجوع کیا اور پہلے ڈاکٹر سے کہا : ’’میں نے دوسرے ڈاکٹر کو بتایا تھا ، وہ کہتا ہے کہ آپ کی تشخیص غلط تھی …!‘‘۔
پہلے ڈاکٹر نے جل کر کہا: ’’ٹھیک ہے تم اُس کا علاج کرواؤ ، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ خود بتادے گی کس کی تشخیص غلط تھی…!؟‘‘ ۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
ثواب کا کام …!!
٭ ایک آدمی نے زندگی میں کبھی اپنی بیوی کی تعریف نہیں کی ایک دن جمعہ کی نماز میں مولوی صاحب نے خطبہ دیا کہ بیوی کی تعریف کیا کرو یہ بھی ثواب کا کام ہے۔ وہ شخص گھر میں آیا تو بیوی نے اسے کھانا دیا، وہ ہر لقمہ پر سبحان اللہ واہ واہ کرنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد بیوی نے اس کے سر پر بیلن مارا اور کہا کہ: بیس سال میں میری کبھی تعریف نہیں کی آج پڑوسن نے دال کیا بھیج دی تمہاری تعریف ہی بند نہیں ہو رہی…!!
اختر عبدالجلیل ناز ؍محمد امتیاز علی نصرتؔ
…………………………