غزہ کے 10 لاکھ فلسطینی بچوں کیلئے زمین جہنم بن چکی ہے: یونیسیف

   

جینوا :اقوام متحدہ نے کہا کہ غزہ میں دس لاکھ بچے زمین پر جہنم کی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ غزہ میں ایک سال میںہر روز تقریباً 40 بچے مارے گئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا اسرائیل کی حماس کیخلاف جنگ میں ایک سال گزر چکا ہے۔ انہوںنے صحافیوں سے کہا کہ غزہ میںلاکھوں بچوں کیلئے زمین پر جہنم ہوگئی ہے ۔ ایلڈر نے کہا کہ اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حماس حملے کے بعد سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی اور اب تک بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 14,100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جیمز ایلڈر کے مطابق غزہ میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 42 ہزار سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ ملبے کے نیچے دب کر لاپتہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا گیا یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جیمز ایلڈر نے قمر نامی سات سالہ بچی کی مثال پیش کی اور بتایا وہ شمالی غزہ میں جبالیا کیمپ پر حملے میں زخمی ہو گئی تھی۔ اسے ایک ایسے ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں اسرائیل نے 20 دن تک محاصرہ کر رکھا تھا۔علاج کی سہولت نہ ملنے پر اس کی ٹانگ کٹوا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایک سال قبل غزہ ہزاروں بچوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ ایجنسی نے غزہ کو بچوں کیلئے دنیا کا سب سے خطرناک مقام قرار دیا تھا۔