فون ٹیاپنگ اسکام کا نیا موڑ، بی آر ایس قائد لنگیا کو پولیس کی نوٹس

   

تحقیقات کیلئے پیش ہونے 14 نومبر تک مہلت، بی آر ایس کے حلقوں میں ہلچل، مزید قائدین کو نوٹس کا امکان
حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس دور حکومت میں اہم شخصیتوں کے فون ٹیاپنگ کا معاملہ اس وقت نیا رُخ اختیار کرگیا جب بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی سی ایچ لنگیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس نے تحقیقاتی عہدیداروں کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت نے فون ٹیاپنگ معاملہ کی جانچ کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ نکریکل سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی سی ایچ لنگیا کو نوٹس کی اجرائی سے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بی آر ایس کے دیگر سینئر قائدین بھی تحقیقات کی زد میں آسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لنگیا نے ان پولیس عہدیداروں سے فون پر بات چیت اور بارہا چیاٹنگ کی تھی جنہیں ٹیاپنگ معاملہ میں گرفتار کیا گیا۔ تحقیقاتی عہدیدار نے لنگیا کو پیر کے دن پیش ہونے کی ہدایت دی تھی لیکن انہوں نے خرابی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے 14 نومبر تک کا وقت مانگا ہے۔ سابق رکن اسمبلی کو نوٹس کی اجرائی نے بی آر ایس حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحقیقات کے دائرہ میں کئی سینئر قائدین ہیں لہذا آئندہ چند دنوں میں انہیں بھی نوٹس جاری کی جاسکتی ہے۔ فون ٹیاپنگ معاملہ بی آر ایس کیلئے پہلے ہی پریشان کن ثابت ہوا ہے۔ گذشتہ دنوں اینٹی کرپشن بیورو نے فارمولہ ای ۔ ریسنگ معاملہ میں کے ٹی راما راؤ کو پراسیکیوٹ کرنے کیلئے گورنر جشنو دیو ورما سے اجازت طلب کی ہے۔ ایچ ایم ڈی اے نے خانگی کمپنی کو 55 کروڑ روپئے جاری کئے تھے جبکہ محکمہ فینانس سے کوئی منظوری حاصل نہیں کی گئی ہے۔ کے ٹی آر کے معاملہ میں گورنر نے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے حاصل کی ہے ایسے میں کے ٹی راما راؤ کا اچانک دورہ دہلی کانگریس پارٹی کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ مقدمات سے بچنے کیلئے مرکزی حکومت کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ فون ٹیاپنگ معاملہ میں بی آر ایس حکومت نے اہم عہدوں پر فائز کئی پولیس عہدیدار یا تو گرفتار کئے گئے یا پھر وہ بیرون ملک ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی لنگیا نے مذکورہ پولیس عہدیداروں سے بارہا فون پر بات چیت کی تھی۔ ملزمین کے ٹیلی فونس کی جانچ میں اس بات کا پتہ چلا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کی سرگرمیوں میں اچانک تیزی نے بی آر ایس کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔1