ماہِ رمضان کے بعد بھی جسم پر روح کی حکمرانی ہو

   

ڈاکٹر ساجد عباسی
گزشتہ سے پیوستہ … انسان بھوک مٹانے کے لئے اپنا پیٹ بھرے لیکن ناجائز طریقے سے مال نہ کمائے۔ چوری، رشوت، ڈکیتی، دھوکہ دہی اور ظلم کے ذریعے مال نہ کمائے بلکہ محنت اور حلال طریقوں سے روزی کمائے۔ اسی طرح انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ جنسی خواہش کی تکمیل کرے لیکن نکاح کے حصار میں رہ کر۔
سوال یہ ہے کہ اتنی زوردار خواہشات پر قابو کیسے پایا جائے؟ گاڑی جس تیز رفتاری سے جا رہی ہو، اسی قدر زوردار بریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہر مرد و عورت اپنی نظروں کی حفاظت کریں، غیر محرم مرد و خواتین خلوت میں ملاقاتوں سے پرہیز کریں تاکہ ناجائز تعلقات پیدا نہ ہوں، جن کے نتیجے میں شوہر اور بیوی کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے، ذہنی سکون برباد ہو جاتا ہے، شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور خاندان تباہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ کو ضرورت سے زیادہ بھرنے کی نہ ختم ہونے والی حرص انسان کو ناجائز مال کمانے کی دوڑ میں اندھا بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشی جرائم کیے جاتے ہیں اور امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر بنتے چلے جاتے ہیں۔
تقویٰ کی صفت ہی انسان کو اخلاقی حدود میں رکھ سکتی ہے، جس کی بدولت انسان کی روح، جسم پر حکمران ہوتی ہے۔ ملک کی ترقی میں بھی تقویٰ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تقویٰ ذمے دار شہری پیدا کرتا ہے جو اپنی ضروریات کی تکمیل میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کرتے ہیں۔ وہ خود غرض نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ اسلام نے عبادات کا جو نظام بنایا ہے، اس کے ذریعے افراد کی ایسی اخلاقی تربیت کی جاتی ہے جس سے بہترین انسان وجود میں آتے ہیں۔ نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے اور برے اور فحش کاموں سے روکتی ہے۔ روزہ انسان کے اندر ضبطِ نفس اور ڈسپلن پیدا کرتا ہے، جس سے وہ نفسانی خواہشات پر قابو پاتے ہوئے گناہوں سے بچتا ہے۔ زکوٰۃ کا نظام معاشرے کے کمزور افراد کو اٹھانے اور انہیں خود کفیل بنانے میں مدد دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ روزے کے ذریعے ایسی اخلاقی مشق کروائی جائے کہ ہر دن بارہ چودہ گھنٹے یہ احساس پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ روح کے جسم پر غلبے کی یہ تربیت انسان کے اندر ضبطِ نفس پیدا کرتی ہے، جو روزہ دار کو معاشرے کے لئے نافع اور خیر خواہ بناتی ہے۔
ماہِ رمضان میں تقویٰ کی جو صفت پیدا ہوتی ہے، اسے گیارہ مہینے کیسے باقی رکھا جائے؟ روح کی جسم پر حکمرانی کی جو مشق کروائی گئی، اس کے اثرات رمضان کے بعد بھی کیسے باقی رہیں؟ اسلام چاہتا ہے کہ جس طرح ایک دن کا روزہ صبح سے شام تک رکھا جاتا ہے اور شام کو افطار کر کے مکمل کیا جاتا ہے، اسی طرح پوری زندگی کو بھی روزے کی طرح گزارا جائے اور آخرت میں اس طویل روزے کا افطار کیا جائے۔ آخرت کی افطار اتنی عظیم ہوگی کہ وہاں انسان کو وہ کچھ ملے گا جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
انسان کی زندگی محدود ہے، لیکن اس کی خواہشات لامحدود ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے کوئی نقصان اور غم لاحق نہ ہو، وہ بیمار نہ ہو، وہ بوڑھا نہ ہو، ہمیشہ جوان رہے اور اسے کبھی موت نہ آئے۔ کیا کسی ایک بھی انسان کی یہ لامحدود خواہشات اس دنیا میں پوری ہو سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہاں! یہ پوری ہو سکتی ہیں، لیکن اس جہاں میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد کی زندگی میں۔ اور صرف ان لوگوں کیلئے پوری ہو سکتی ہیں جو دنیا میں روزہ دار کی طرح زندگی گزاریں، قدم قدم پر اللہ کی نافرمانی سے بچتے ہوئے۔
رمضان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے قیام و صیام کے بدلے ہر روز ہمارے گناہوں کو معاف کیا اور نیکیوں کو بڑھایا۔کیا ہم اس استحقاق کو کھونا پسند کریں گے؟ کیا ہم اگلے رمضان کو پانے کی اُمید میں خواہشاتِ نفس کی خاطر تقویٰ کی روش سے دستبردار ہونا گوارا کریں گے؟ کیا ہمیں یقین ہے کہ اگلا رمضان ہمیں ملے گا؟ کیا پرہیزگاری صرف رمضان کے لئے مطلوب ہے؟ کیا رمضان میں ہم اللہ کے وفادار بندے ہیں اور رمضان کے بعد شیطان کی پیروی کریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدٰى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ o
(البقرہ:۱۷۵)
اللہ ہمیں رمضان کے بعد بھی تقویٰ کی روش پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ آمین