مبینہ ”نفرت انگیز تقریر“ کے معاملے میں مفتی سلمان ازہری کو گجرات کی عدالت نے دی ضمانت

,

   

ضمانت ملنے کے بعد مولانا ازہری کو راج کوٹ سنٹرل جیل سے لے جایاگیاجہاں سے ارویلی پولیس ان کے خلاف درج تیسرے مبینہ ”نفرت انگیز تقریر“کے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے گی۔


بھوج۔ ممبئی نژاد عالم دین مفتی سلمان ازہری کو گجرات کے کچ ضلع کی ایک عدالت نے ایک اور مبینہ نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں ضمانت دی ہے جو دوہفتے قبل مذکورہ ضلع میں سماکھائیلی شہر میں منعقدہ ایک مذہبی تقریب کے دوران کی گئی ان کے تقریر کے خلاف درج ایک کیس کے ضمن میں ہے۔

سما کھائیلی پولیس اسٹیشن سب انسپکٹر وشال پٹیل نے کہاکہ بچاؤ می جوڈیثریل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس(جے ایم ایف سی) وائی شرما نے مولانا کو ضمانت دی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضمانت ملنے کے بعد مولانا ازہری کو راج کوٹ سنٹرل جیل سے لے جایاگیاجہاں سے ارویلی پولیس ان کے خلاف درج تیسرے مبینہ ”نفرت انگیز تقریر“کے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے گی جو جمعہ کے روز ان کے خلاف موڈسہ پولیس اسٹیشن میں درج کیاگیا کیس ہے۔

فبروری 8کے روز بچاوء کورٹ نے مولانا ازہری کو اتوار تک پولیس تحویل میں دیدیاتھا۔ مولانا ازہری کے وکیل نے ایک درخواست ضمانت پیش کی تھی۔دونوں فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔

مولانا سلمان ازہری کو میں 31جنوری کے روزجونا گڑھ حدود کے ڈی ڈویثرن پولیس اسٹیشن میں مبینہ نفرت انگیز تقریردینے پر ان کے خلاف درج پہلے ایف ائی آر میں 7فبروری کو ضمانت ملی تھی۔ اس کیس کے ضمن میں انہیں 5فبروری کے روز ممبئی سے گرفتار کیاگیاتھا۔

بچاؤ کورٹ کی جانب سے ضمانت ملنے کے اگلے روز اسی نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں کچ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ اتوار 8فبروری کے روز درج دوسرے کیس میں بھی انہیں ضمانت مل گئی ہے۔

پچھلے سال ڈسمبر 24کے روز اروالی ضلع کے موڈسا کے کھلے میدان میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر دینے کا تیسرا معاملہ جمعہ کے روز مولانا سلمان ازہری کے خلاف درج کیاگیا ہے۔ ائی پی سی کی دفعہ 153بی‘ اور 505کے تحت جوناگڑھ کے کچ میں مولانا ازہری کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔

موڈسا میں ائی پی سی کی دفعات153بی اور 505(2) کے علاوہ ان پر 298کو بھی شامل کیاگیاہے