ملک مقدم ہے پہیلے ملک کی فکر کریں ،مولانا رابع صاحب کی راج ناتھ کو نصیحت ،کل وزیر داخلہ راج ناتھ او ر سابق وزیر اعلی اترپردیش اور کیی سیاسی لیڈران نے مولانا رابع صاحب سے مل کر تعزیت پیش کی

,

   

لکھنو۔ کل مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور سابق وزیر اعلی اتر پردیش نے ندوۃالعلما پہونچ کر مولاناربع حسنی ندوی صاحب سے ملاقات کی اور مولانا واضح صاحب کے انتقال پر اپنی طرف سے تعزیت پیش کی، اسی دوران مولانا رابع صاحب نے اپنی لکھی ہویی کتاب رہبر انسانیت کا ہندی نسخہ سیاسی لیڈران کو پیش کیا۔ ملاقات کے دوران مولانا نے راج ناتھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب مولا نا ابولحسن علی ندوی ر ح سے اٹل بہاری واجپای ملاقات کرتے تو مولانا انکو یہی نصیحت کرتے تھے کہ ملک مقدم ہے پہیلے ملک کی فکر کیجیے، وہی نصیحت مولانا نے راج ناتھ کو کی کہا کہ ملک مقدم ہے پہیلے ملک کی فکر کیجیے ، اسی دوران مولانا نے ندوۃ کی تعلیمی سرگرمیوں پر مختصر روشنی ڈالی، جبکہ راجناتھ نے حکومت کے جانب سے کی ہوی ترقیاتی کاموں پر روشنی ڈالی ، وزیر داخلہ عصر میں قریب سوا پانچ بجے پہونچے اور قریب بیس منٹ ملاقات کرکے مغرب کی نماز سے پہیلے رخصت ہوے، انکے ساتھ ریاست کے نایب وزیر اعلی ڈاکٹر ونیش شرما اور بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشوتر پارٹی موجود تھے ،جبکہ ندوہ کی طرف سے مولانا رابع حسنی صاحب کے ساتھ ندوہ کے کار گزار مہتمم مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی مولانا بلال حسنی مولاناحمزہ حسنی اور دیگر موجود تھے۔


قبل ازیں دوپہر کے ۴۵:۱۲ کو سابق وزیر اعلی اکلیش یادو ندوہ پہونچے اور مولانا رابع صاحب سے ملاقات کی اور مولانا واضح صاحب کے انتقال پر تعزیت پیش کی اور اپنے رنج و غم کا اظہار فرمایا، اور کہا کہ اس ادارے کے ذمہ داروں سے میرا تعلق اس وقت سے ہے جب میں نے سیاست میں قدم بھی نہیں رکھا تھاتب سے اب تک وہی تعلق برقرار ہے انہوں نے مزید کہا کہ آج کل لوگ اپنے فایدہ کے لیے بہت بھاگ ڈور کر رہے ہیں جس کو جہاں فایدہ نظر آرہا ہے وہاں بھاگ رہا ہے ٹ، انکے ساتھ قانون سازکونسل کے حزب مخالف لیڈراحمد حسن ، سابق وزیر یامین خان اور شکیل ندوی موجود تھے،جبکہ ندوہ کے جانب سے مولا حمزہ حسنی اور دیگر موجود تھے۔کیی سیاسی لیڈران کی ملاقات سے ندوہ میں صبح سے گہما گہمی رہی ،سیکورٹی دستے سے جڑی انتظامیہ اور دیگر    انتظامیہ سے جڑے لوگ ندوہ پہونچتے رہے اور ندوہ کے اساتذہ نے بھی اپنے طور پرتعاون پیش کیا