مہاراشٹرا اور کرناٹک دوسرے اور تیسرے مقام پر ، دیہی روزگار کے حصول میں شوگر کین انڈسٹری کا اہم رول
حیدرآباد ۔13۔ مئی (سیاست نیوز) ملک میں گنے کی کاشت میں اترپردیش دیگر ریاستوں کے مقابلہ سبقت حاصل کرچکا ہے۔ 2025 میں ملک میں گنے کی کاشت پر سروے کیا گیا جس میں اترپردیش گزشتہ چند برسوں سے دیگر ریاستوں پر سبقت حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں 225.22 ملین ٹن گنے کی پیداوار ہوئی جبکہ ہندوستان میں مجموعی پیداوار 490.6 ملین ٹن درج کی گئی۔ عام طور پر مہاراشٹرا اور کرناٹک میں بھی گنے کی کاشت کا رجحان زیادہ ہے اور ملک کی تین ریاستوں نے ہمیشہ زائد کاشت کے ذریعہ اپنا مقام برقرار رکھا ہے۔ مہاراشٹرا میں 123.97 ملین ٹن جبکہ کرناٹک میں 62.46 ملین ٹن گنے کی کاشت کی گئی ۔ کاشت کاروں اور ملرس کے علاوہ گنے کی کاشت سے دیہی علاقوں کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ کاشت کاروں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ حکومت کی جانب سے اقل ترین امدادی قیمت ادا نہیں کی گئی ، اس مسئلہ پر حالیہ برسوں میں شکر کے کاشت کاروں کی جانب سے بڑے پیمانہ پر احتجاج منظم کیا گیا۔ دنیا بھر میں گنے کی کاشت کے معاملہ میں ہندوستان کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ سابق مرکزی وزیر شرد پوار گنے کے کاشت کاروں کے مسائل کی یکسوئی کے معاملہ میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ گجرات میں 14.69 ملین ٹن جبکہ ٹاملناڈو میں 16.92 ملین ٹن گنے کی پیداوار ہوئی۔ مدھیہ پردیش میں 10.45 ملین ٹن ، بہار 12.06 ملین ٹن ، پنجاب 7.64 ملین ٹن ، ہریانہ 8.86 ملین ٹن ، اڈیشہ 8.96 ملین ٹن اور تلنگانہ میں 5.48 ملین ٹن گنے کی پیداوار درج کی گئی ہے۔ شوگر فیکٹریز کی تعداد میں دن بہ دن کمی کے باعث کئی ریاستوں میں کسانوں نے گنے کے بجائے دوسری فصلوں کی کاشت کو ترجیح دینا شروع کردیا ہے۔1/k/m/b