ملک گیر احتجاج کے پیش نظر عمران خان کے قتل میں تحقیقات کاحکم دیا

,

   

صوبہ پنجاب کے وزیرآباد علاقے میں جمعرات کے روز دو بندوق برداروں کی فائرینگ کے بعد 70سالہ عمران خان کا سیدھا پیر زخمی ہوا ہے‘ وہ وزیراعظم شہباز شریف حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے کے لئے جارہے تھے۔


اسلام آباد۔عمران خان کے ناراض حامیوں نے جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد پاکستان کی سڑکوں پر نکل کر خان پر جان لیوا حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے تازہ انتخابات کی مانگ کے ساتھ اسلام آباد تک مار چ کو بحال کرنے کی منشاء ظاہر کی ہے۔

جبکہ خان کی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی ائی)نے اصرار کیاکہ جمعرات کا حملہ ان کے قائد کو قتل کرنے کے لیے ”ایک سوچی سمجھی سازش کاپیش خیمہ“تھا‘ وفاقی حکومت نے پی ٹی ائی کی زیرقیادت پنجاب کی صوبائی حکومت سے کہاکہ وہ ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے۔سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے ائی ٹی)مکمل تحقیقات کے لئے حقائق کو منظرعام پر لایاجاسکے۔

صوبہ پنجاب کے وزیرآباد علاقے میں جمعرات کے روز دو بندوق برداروں کی فائرینگ کے بعد 70سالہ عمران خان کا سیدھا پیر زخمی ہوا ہے‘ وہ وزیراعظم شہباز شریف حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے کے لئے جارہے تھے۔

لاہور میں اپنے شوکت خانم اسپتال سے جہاں وہ زیرعلاج ہیں خان جس کے سیدھے پیرپر پلاسٹر لگا ہوا ہے زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد سڑکوں پر دوبارہ آنے کا عزم ظاہر کیاہے۔

اپنی اسپتال سے کی گئی 1گھنٹہ 45منٹ طویل تقریر میں پاکستان کے وزیراعظم شریف کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے خان نے کہاکہ ”بہت جلد میں صحت یا ب ہوجاؤں گا‘میں نے فیصلہ کیا ہے سڑکوں پر اتروں گا اور اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کروں گا“۔

خان نے کہاکہ انہیں چار گولیاں لگی ہیں۔کرکٹر سے سیاست داں بننے والے خان کاعلاج کرنے والے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہاکہ خان کے سیدھے پیر کا ایکس رے دیکھا رہا ہے کہ ٹبیا کو نقصان ہوا ہے درحقیقت وہ ٹوٹ گئی ہے۔

سلطان نے کہاکہ ”اس اسکین میں آپ کو دائیں پیر پر جو لکیر نظر آتی ہے وہ مرکزی شیریان ہے۔ گولیوں کے تکڑے اس کے بالکل قریب ہیں“۔خان نے اپنے اوپر ہونے والے حملہ کو بیان کیااورکہاکہ وہ کنٹینر پر تھے جب ان پر ”گولیاں“داغی گئیں اور پیر میں گولی لگنے کی وجہہ سے وہ نیچے گر گئے۔

پھر اسی وقت میں دوسرا حملہ وہاں سے کیاگیاتھا“۔واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”د وسری حملہ کیاگیا‘ جس میں دو لوگ تھے“۔ انہوں نے کہاکہ اگر گولی پیر کے بجائے اوپر ی حصہ میں لگتی تو شائد میرا زند ہ بچنا مشکل تھا“۔

انہوں نے کہاکہ ”جیسے ہی میں نیچے گرا بندوق بردار نے سمجھا کہ میں مرگیا او روہ وہاں سے فرار ہوگیا“۔ خان نے اشارہ دیاکہ ایک مشتبہ جو شدت پسند ہونے کا دعوی کررہا ہے اس کو گرفتار کرلیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ”وہ شدت پسند نہیں ہے۔

انہیں قتل کرنے کا پس پردہ منصوبہ ہے اور وہ اس کو فاش کریں گے“۔

خان نے اپنے دعوی کو دہرایا کہ وزیراعظم شبہاز شریف‘ داخلی وزیررانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر انہیں قتل کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں جس طرح2011میں پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو ایک مذہبی شدت پسندنے قتل کیاتھا۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد میں ناکام ہونے کے بعد اگست میں خان اقتدار سے محروم ہوگئے تھے اس کے بعد سے وہ مسلسل امریکہ سے انہیں ”جان سے مارنے“ کے خدشات کو بارہا دہراتے رہے ہیں۔ امریکہ نے اس دعوی کو سرے سے مسترد کردیاہے