ممبئی ہائی کورٹ نے بھیم آرمی کو آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے قریب میدان میں میٹنگ کی اجازت دیدی ہے

,

   

ناگپور۔ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے جمعہ کے روز بھیم آرمی کو ریشم باغ میدان میں 22فبروری کے روزاپنے کارکنوں کا جلسہ عام منعقد کرنے کی اجازت دیدی ہے مگر کچھ شرائط بھی رکھے ہیں۔

جسٹس سنیل شکرے اور مادھو جامدار کی ایک ڈویثرن بنچ نے کہاکہ دلت تنظیم کی مذکورہ درخواست جس میں جلسہ کی اجازت مانگی گئی تھی کو شرائط کے ساتھ منظور کرلیاگیاہے۔

بھیم آرمی کے صدرچندرشیکھر آزاد کا مذکورہ جلسہ عام میں خطاب مقرر ہے۔ منگل کے روز ہائی کورٹ نے مہارشٹرا حکومت او رناگپور پولیس کمشنر کو بھیم آرمی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر نوٹس جاری کیاتھا۔

جلسہ کا مذکورہ میدان راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) ہیڈکوارٹر کے قریب ہے اور کوتوالی پولیس نے لاء اینڈ آرڈر کامسئلہ بتاکر جلسہ عام کی اجازت دینے سے انکار کردیاتھا۔

پولیس اسٹیشن سے درخواست کو مسترد کردئے جانے کے بعد دلت گروپ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاتھا۔ مذکورہ درخواست اپنے وکیل فردوس مرزا کے ذریعہ دائر کرنے والے بھیم آرمی ناگپور ضلع صدر پرفال شنڈے نے کہاکہ تنظیم کو جلسہ کے لئے سی پی اور بیرار ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے اجازت مل گئی ہے‘

جس کے قبضہ میں ناگپور ایمپاورمنٹ ٹرسٹ کا یہ میدا ن ہے۔ درخواست میں کہاگیاہے کہ تاہم کوتوالی پولیس اسٹیشن جس کے حدود میں مذکورہ میدان آتا ہے نے لاء اینڈ آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے جلسہ عام کی اجازت دینے سے انکار کردیاتھا۔

درخواست میں ہائی کورٹ سے گوہار لگائی گئی تھی کہ وہ ریاستی حکومت‘ پولیس کمشنر کو بھیم آرمی کے کارکنوں کو جلسہ عام کی اجازت دینے لئے ہدایت جاری کریں۔مشروط اجازت دیدی گئی ہے۔ یہ صرف کارکنوں کا اجلاس ہے۔

اسکواحتجاجی مظاہرے میں تبدیل نہیں کیاجائے گا۔جمعہ کے روز جاری کردہ اپنے احکامات میں عدالت نے کہاکہ ”کوئی بھڑکاؤ تقریریں نہیں ہونی چاہئے اورماحول پرامن رہے۔ اس کے علاوہ چندرشیکھر آزاد کو ان شرائط پر دستخط کرنے ہوں گے“۔

بنچ نے انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی مجرمانہ کاروائی اور عدالت کی توہین مانے جائے گی۔

جمعرات کے روز جو حلف نامہ محکمہ پولیس نے عدالت میں داخل کیاتھا اس میں کہا ہے کہ تنظیم نے سی اے اے‘ این آرسی کے خلاف احتجاجی دھرنے کی اجازت اس مقام کے لئے مانگی تھی جس کے قریب میں آر ایس ایس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

حلف نامہ میں کہاگیا ہے کہ ”مذکورہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے درخواست گذار آر اورایس ایس کے نظریات میں بڑا تضاد ہے“۔

پولیس نے کہاکہ ایسے حالات میں احتجاج کے مقام پر لاء اینڈ آرڈر کے متعلق مسلئے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ہے۔