ہندوستان 140 کروڑ بہادر لوگوں کا ملک ہے ، کجریوال کی پریس کانفرنس
نئی دہلی، 13 مئی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے گزارش کی ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آگے جھکنا بند کریں اور فوری طور پر روس سے تیل و گیس خریدنا شروع کریں۔کیجریوال نے پریس کانفرنس کر کے روس سے گیس لے کر ہندوستان آ رہے ایک جہاز کو مرکزی حکومت کی جانب سے واپس لوٹانے پر آج وزیر اعظم نریندر مودی پرتندوتیز حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ “آپ، ٹرمپ کے آگے جھکنا بند کیجیے اور فوری طور پر روس سے تیل اور گیس خریدنا شروع کیجیے ۔ ایک طرف تو آپ ملک کو پٹرول، ڈیزل اور گیس بچانے کا مشورہ دے رہے ہیں اور دوسری طرف روس تیل و گیس دے رہا ہے تو لینے سے منع کر رہے ہیں، کیوں؟۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اڈانی کو بچانے اور ایپسٹین فائل میں نام آنے کی وجہ سے مودی بہت ڈرے ہوئے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ آپ ٹرمپ کے سامنے کیوں جھکے ہوئے ہیں؟ ملک کے 140 کروڑ لوگوں کا مفاد ضروری ہے یا ٹرمپ ضروری ہے ؟ پوری دنیا میں کسی ملک کا لیڈر ٹرمپ کی بات نہیں مان رہا ہے ، صرف ہمارے وزیر اعظم ٹرمپ کی بات کیوں مان رہے ہیں؟ چاروں طرف افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ ایپسٹین فائل کے اندر مودی کا نام آیا ہے اس لیے مودی جی ڈرے ہوئے ہیں۔ چاروں طرف افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اڈانی کو بچانا ہے ، اس لیے وزیر اعظم ڈرے ہوئے ہیں۔عآپ لیڈر نے کہاکہ “مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی کیا ذاتی وجہ ہے ۔ لیکن اگر مودی اپنے ذاتی دباؤ کو جھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں تو استعفیٰ دے دیجیے ۔ ہندوستان 140 کروڑ بہادر لوگوں کا ملک ہے ۔ ہندوستان نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں، جو ٹرمپ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ملک کے لوگ ایسے شخص کو وزیر اعظم بنائیں گے ، جو ٹرمپ کو اس کی زبان میں جواب دے ۔”کیجریوال نے کہا کہ ہندوستان 140 کروڑ آبادی والا ایک عظیم ملک ہے ۔ ٹرمپ کو ہماری ضرورت ہے ۔ امریکہ کو ہماری ضرورت ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہندوستان کے اندر ہے ۔ امریکہ کو اپنا مال بیچنے کے لیے ہندوستان کی ضرورت ہے ۔ امریکہ کی 10 کمپنیوں کو ملک سے باہر نکال دیجیے ، ٹرمپ کی عقل ٹھکانے آ جائے گی۔ وزیر اعظم کو ملک کو بتانا چاہیے کہ ہندوستان روس سے تیل کیوں نہیں خرید رہا ہے ۔