قومی سالمیت کمیٹی کے زیر اہتمام گاندھی بھون میں جلسہ
وی ہنمنت راؤ،عبید اللہ کوتوال، عظمت اللہ حسینی، افضل الدین اور اعجاز الزماں کا خطاب
حیدرآباد۔12نومبر (پریس نوٹ) وی ہنمنت راو سابق وزیر نے کہا کہ مولانا ابو الکلام آزاد کے یوم پیدائش 11 نومبر کو ہر سال قومی یوم تعلیم منایا جاتا ہے۔ سال2008 میں وزارت فروغ انسانی وسائل (موجودہ وزارت تعلیم) نے مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش 11 نومبر کو قومی یوم تعلیم منانے کا فیصلہ کیا۔مولانا آزاد کا شمار دنیا کی عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ان خیالات کا اظہار قومی سالمیت کمیٹی کے زیر اہتمام گاندھی بھون میں مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر کیا۔ ڈاکٹرایم اے انصاری جنرل سکریٹری این ایس سی نے کہا کہ مولانا آزاد کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور تابناک تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔مولانا آزاد ہندو۔ مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔جناب محمد عبید اللہ کوتوال چیرمین اقلیتی فینانس کمیشن نے کہا کہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ملک کا تعلیمی نظام مولانا آزاد کی دین ہے۔محمد عظمت اللہ حسینی چیرمین وقف بورڈ نے کہا کہ مولانا آزاد کی زندگی قابل تقلید اور تحریک ہے۔ طلبہ عظیم شخصیتوں کی زندگیوں اور ان کے کارناموں سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔مسٹر بھیم ریڈی چیرمین ریڈ کریسنٹ نی کہا کہ سادگی، سنجیدگی اور کم گو فطرت کے ساتھ مولانا آزاد ایک لطیف طبیعت کے مالک تھے۔ڈاکٹر ایس کے افضل الدین صدر سالمیت کمیٹی نے کہا کہ قرآن اور صاحبِ قرآن سے عقیدت اور انسیت کا جو تعلق مولانا آزاد کے ہاں دکھائی دیتا ہے وہ کسی پیمانے میں سما نہیں سکتا۔ قرآن سے آپ کا تعلق کبھی بھی محض قاری اور کتاب کا نہیں تھا بلکہ آپ کے اندر قرآن سے شغف، اور فکر وشعور کے ساتھ مطالعہ قرآن کا ایک والہانہ پن موجود تھا۔ ڈاکٹر اعجاز الزماں سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و کنوینر این آر آئی سیل نے کہا کہ مولانا آزاد کو خدانے غیر معمول صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ علم وعمل کے اس عظیم شہسوار نے جس میدان میں بھی قدم رکھا کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔ اسماعیل الرب انصاری المعروف اردو انصاری نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے ایک جہان واقف ہے۔ شخصیات، ادوار کی پہچان ہوتی ہیں کسی ایک زمانے میں بسنے والے لوگ اس دور کا حوالہ بن جاتے ہیں کیونکہ لوگوں کا اسلوبِ فکر اور طرزِ عمل ایسے معاشرے کو تشکیل دیتا ہے جو اس دور کے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع پر شاہد صدیقی، محمد ذاکر، محمدامتیاز، شاہانہ خان، نزہت خان، عرشیہ، حمیرہ، سریدھر کمار ، ایم ایس انصاری، ایس کے جاوید، دھنش،ہاشم علوی اور دیگر موجود تھے۔