خواجہ رحیم الدین ،ایم ۔اے (عثمانیہ، نیویارک)
آج کے موجودہ دور میں مولوی چراغ علی مرحوم کے حالات زندگی نوجوان نسل کیلئے سبق آموز ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک شاعر کی زندگی ہے۔مولوی چراغ علی مرحوم ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے بل بوتے پر محنت سے لیاقت سے فضیلت حاصل کی۔ اپنے سہارے سے آپ کھڑے ہونا اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
مولوی چراغ علی مرحوم پہلے ایک منشی (کلرک) تھے، محض اپنی لیاقت اور محنت سے اعلیٰ رتبے پر پہنچ گئے۔ نواب اعظم یار جنگ بہادر بھی مولوی چراغ علی مرحوم کی طرح تھے۔ مولوی چراغ علی مرحوم کی تعلیم مختصر تھی لیکن محنت کی بدولت اعلیٰ درجہ حاصل ہوا۔ مولوی چراغ علی مرحوم کی زندگی نئی نسل کیلئے ایک سبق ہے اور ان لوگوں کیلئے جو دنیا میں پڑھنا اور کچھ کرنا چاہتے ہیں جس طرح عابد علی خان مدیرسیاست اخبار نے اپنی پاکیزہ زندگی گزاری۔ اردو کی خدمت میں قلم پکڑنا سکھایا۔ اس دور میں روشنائی کیلئے روشنا ئی ٹکیہ استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح مولوی چراغ علی مرحوم کا وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں گورنر جنرل پر لارڈ ڈیلہوزی آئے تھے۔ ڈیلہوزی عمر میں کم تھے مگر بلا کے ذہین اور اپنے ارادے کے پکے تھے۔ لارڈ ڈیلہوزی سے پہلے کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ تھے، سکھوں سے پہلی لڑائی فتح کرنے کے بعد پنجاب انہیں لوگوں کے ہاں چھوڑ دیا گیا لیکن رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد سکھ برادری میں پھوٹ ہوگئی۔ ایک بار انگریزوں اور سکھوں میں بڑی خونریز جنگ ہوئی۔ آخر پنجاب پر انگریزوں کا پورا تسلط ہوگیا۔ انتظام کیلئے کئی اشخاص منتخب کئے گئے۔ وہاں مولوی محمد بخش کا انتخاب ہوا (مولوی محمد بخش مولوی چراغ علی مرحوم کے والدتھے) سرحدی اضلاع کے بندوبست پر تھے۔ آپ فارغ ہونے کے بعد ضلع سیالکوٹ میں متعین کئے گئے، اس کے بعد ضلع شاہ پور میں اہم کام پر مامور رہے۔ وہ عہدہ مہتمی کہلاتا تھا، اس کے بعد مولوی محمد بخش کے حالات کسی کو معلوم نہیں ہوسکے۔
مولوی محمد بخش اپنی اولاد کو اچھی سے اچھی تعلیم دلوانا چاہتے تھے، مولوی چراغ علی مرحوم نے اپنی دادی اور والدہ کے زیرسایہ میرٹھ میں تعلیم پائی لیکن بالکل معمولی تعلیم حاصل کی، سوائے اردو، فارسی اور انگریزی کے نہ کسی اور علم اور نہ کوئی امتحان پاس کیا، گورکھپوری ضلع میں خزانے کے انچارج رہے، تنخواہ بیس روپئے تھی۔ مولوی چراغ علی مرحوم کو مطالعہ کتب اور لکھنے پڑھنے کا شوق ابتداء سے تھا۔ سرکاری کام کے بعد باقی وقت وہ لکھنے پڑھنے میں گزارتے تھے۔ اس زمانے میں مولوی چراغ علی مرحوم کے ایک دوست محمد ذکریا صاحب نے مولوی چراغ علی مرحوم کو اطلاع دی کہ آپ کے والد کے محسن مسٹر گودرو سلی سے آ کر ملیں تو وہ اچھی نوکری دلوائیں گے۔ مولوی چراغ علی لکھنؤ گئے اور مسٹر گودرو سلی سے ملے اور اشفاق سے ڈپٹی کمشنری میں عارضی طور پر 1873ء میں تقرر ہوگیا 80 روپیوں پر۔
مولوی چراغ علی مرحوم کا مذہب کی طرف جھکاؤ تھا۔ مولوی چراغ علی خودبخود امام وقف کی طرف جھکے اور وہی ذوق سرسیدصاحب سے ان کے تعارف کا باعث ہوا۔ سرسید صاحب سے خط و کتابت شروع ہوگئی تھی اور تہذیب الاخلاق میں ان کے مضامین شائع ہوتے گئے۔ جب سرسید صاحب لکھنؤ تشریف لائے تو مولوی چراغ علی مرحوم ان سے ملنے کیلئے گئے، چند دنوں بعد حیدرآباد سے کچھ ترجمہ کا کام آیا تو سرسید صاحب اس کام کے انجام دینے کیلئے مولوی چراغ علی مرحوم کو منتخب کیا اور اسی مہینے سرسید صاحب کے پاس رہ کر اس کام کو باکمال انجام دیا۔1877ء میں نواب سر سالارجنگ نے بتوسط مولوی مہدی علی مرحوم سرسید صاحب سے ایک لائق شخص کو طلب کیا۔ سرسید صاحب نے مولوی چراغ علی مرحوم کو منتخب کیا۔ وہ حیدرآباد چلے آئے، یہاں وہ عہدہ اسٹیٹ ریونیو سکریٹری پر معمور ہوئے اور چار سو روپئے ماہانہ ملتے تھے، یہاں سے مولوی چراغ علی مرحوم کی زندگی کا نیا دور شروع ہوگیا۔
دنیا میں کسی قوم کی ایسی مثال نہیں ملتی کہ اس نے بیرونی وسائل سے فائدہ اٹھائے بغیر دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ ترقی کی ہو۔ مولوی چراغ علی مرحوم کی ترقی مستحکم ہونے لگی تو انہوں نے یونان کی علم و حکمت کو زندہ کیا، اگر کوئی یہ چاہے کہ ہم کچھ نہ کریں اور ہمارے لئے سب کچھ ہوتا چلا جائے تو یہ محض خیال بلکہ جنون ہے۔
سر سالارجنگ نے اِسی تدبیر کے ساتھ بڑی دانشمندی یہ کی تھی کہ ابتداء میں انہوں نے قابل لوگوں کو سرسید سے طلب کیا، یہ دوعالی دماغ شخصیتیں سرزمین ہندوستان میں ایسے پیدا ہوئی ہیں کہ انیسویں صدی کے مسلمان ان پر جتنا فخر کریں وہ بجا ہے۔ سرسید کے انتخاب اور سالارجنگ مرحوم کی قدردانی اور کارفرمائی نے سونے پر سہاگے کا کام کیا، جن لوگوں کا انتخاب ہوا وہ اپنے فرائض وفاداری اور قابلیت سے ادا کئے انہیں میں سے ایک ہیں مولوی چراغ علی۔ اس دوران مولوی چراغ علی کا تبادلہ ورنگل پر ہوا اور پھر صوبہ داری گلبرگہ پر تبادلہ ہوا اور وہ معتمد مال و فینانس مقرر ہوگئے۔ مولوی چراغ علی رعایت اور جانبداری جانتے ہی نہیں تھے۔ حیدرآباد میں اس زمانے میں رعایت اور خوش آمدی کا دورہ تھا۔ اس لئے مولوی چراغ علی مرحوم سے خوش نہیں تھے، لفظ اشد ضروری سے نفرت تھی۔مولوی چراغ علی مرحوم کا مطالعہ یہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، یہاں تک کہ کھاتے وقت بھی کتاب سامنے رہتی تھی۔ مولوی چراغ علی مرحوم کے ایک ساتھی کتب خانہ آصفیہ (حیدرآباد میں) کے مہتمم تھے۔ مولوی چراغ علی مرحوم کا ایک ملازم کلو کی زبانی آپکے مطالعہ کے کئی واقعات سامنے آتے ہیں۔ کلو کی زبانی معلوم ہوا کہ مولوی چراغ علی کا بلدہ میں ایک بنگلہ تھا جہاں تہہ خانے میں کئی کتابیں تھے (شاید یہ عثمانیہ فوقانیہ دارالعلوم سرکار عالی کی دوسری بلڈنگ کا واقع ہوسکتا ہے)
مولوی چراغ علی مرحوم مصرو شام و دیگر مقامات سے نایاب کتابیں تلاش کرواکر منگواتے تھے۔ جب ریاست میں مسٹر کرالی کنٹرولر جنرل بن کر آئے اور چراغ علی کی قابلیت دیکھ کر دنگ ہوگئے۔ مولوی چراغ علی مرحوم کئی کتابوں کے عالم تھے۔ چنانچہ سرسید ان کی وفات کے بعد کہتے ہیں وہ عربی، فارسی اور اعلیٰ درجے کے مصنف تھے۔ انگریزی زبان پر عبور تھا۔ مذہب اسلام کے بڑے عالم بھی تھے۔ مولوی چراغ کو ذیابیطس کی شکایت تھی، پانی زیادہ پیتے تھے۔ سب کی سنتے اپنی کچھ نہیں کہتے۔ مشہور ڈاکٹروں کے پاس جاتے، حکمت و تدبیر کچھ کام نہیں آئی، وہ وقت جس سے کوئی جاندار بچ نہیں سکتا آخر آ پہنچا۔ پیر کا دن گیارہ بجتے بجتے دارفنا کا مسافر زندگی کی پچاس منزلیں طئے کرکے راہی ملک بقا ہوا۔
بار دنیا میں رہو غمزدہ یا شاد رہو/ ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو۔ (میئر)
مٹھیوں میں خاک لے کے سب آئے وقت دفن/ زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے۔
بمبئی میں صرف چار ہفتوں کی بیماری میں انتقال کر گئے۔