نریندر مودی کا ابر کے متعلقہ خلاصہ متاثرکن‘ چونکا دینے والے اور تشویش ناک

,

   

انٹرویو میں یہ تبصرہ ناگوار ہوسکتا ہے جسکے متعلق بی جے پی کے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اقتباسات کونمایاں نہیں کیا

نئی دہلی۔ خراب موسم میں بالاکوٹ پر کئے گئے فضائیہ حملے کے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کے انکشاف کے بعد ان کا سوشیل میڈیا پر مذاق آڑایاجارہا ہے۔

ہفتہ کے روز نیوز نیشن ٹیلی ویثرن چیانل پر نشر کئے گئے انٹرویو کے دوران مودی نے کہاتھا کہ”وہاں پر ابر تھا‘ ہم سونچ رہے تھے جائیں یانہ جائیں؟ ماہرین کی رائے تھی کہ ”تاریخ تبدیل کردیں؟“۔

پھر مودی نے کہاکہ ”میں وہ شخص نہیں جو سائنس اس قدر جانتاہوں‘ مگر میں سمجھا بادل ہیں‘ بارش ہورہی ہے‘ لہذا راڈار سے بچنے کا ہمیں موقع ملے گا‘ میرے ذہن میں عام خیال آیاکہ مذکورہ ابر ہمارے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے۔

ہم الجھن میں تھیں کیاکریں‘ پھر میں نے کہاکہ ”تو ٹھیک ہے وہاں پر بادل ہیں‘ آگے بڑھو“ انہوں نے شروع کردیا“اتوار کی شام تک نشرعات کے چوبیس گھنٹوں بعد نہ تو حکومت اور نہ ہی بی جے پی نے فوٹیج کی صداقت کو چیالنج نہیں کیاگیا۔

وزیراعظم کے مذکورہ انکشاف سے یہ سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

اگر مودی کو نہیں معلوم کہ رڈار کس طرح کام کرتے ہیں‘ کیونکہ وہ الجھن میں تھے‘ کیا وہ

ملٹری کمانڈرس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پیشہ وارانہ محور میں تھے؟

اس بات کا دعوی کرتے ہوئے کہ بڑے پیمانے پر وحشیانہ کاروائی کی مذمت کے طور پر

کیاوزیراعظم نے مصلح دستوں کا غیراہم نہیں بنادیا؟

سب سے اہم بات کیا ایک نیوکلیئر طاقت رکھنے و الا ملک کوئی بھی فوجی فیصلہ”عام خیال“ کے ساتھ لے سکتا ہے۔

اس تبصرہ کے بعد بی جے پی کے اپنے ٹوئٹر ہینڈ ل پر اس طرح کے بے شمار سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اس بات کا استفسار کئے جانے کے بعد کیا کیوں ماڈرن راڈراس بادلوں کی پرت کا احاطہ نہیں کرسکتے‘ مذکورہ ٹوئٹ بی جے پی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے غیر ہوگیا

YouTube video

ہر روز ایسا نہیں ہوتا کہ بی جے پی انتظامیہ کو ملک کے سب سے طاقتور لیڈر اور پارٹی کے بڑے لیڈر کے انٹرویو پر مشتمل ٹوئٹ کو ہدف کرنے کی ہمت کرے۔

اس کے متعلق پوچھے جانے پر بی جے پی ائی ٹی سل کے انچارج امیت مالویہ نے نہ ٹوئٹ ہدف کرنے کی تصدیق کی ہے نہ تو توثیق کی ہے۔

جب مالویہ سے پوچھا گیاکہ ٹوئٹ کے ساتھ کیاہوا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ”مذکورہ مکمل ویڈیو ہمارے سوشیل میڈیا چیانل پر دستیاب ہیں لوگوں کے لئے جو دیکھ سکتے ہیں“۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران ایچ آر ڈی منسٹر پرکاش جاوڈیکر سے جب سے مودی کے زیر تجویز”مکمل طور پر غلط حقائق“ کے متعلق پوچھاگیا۔

جاوڈیکر نے کہاکہ ”جہاں تک بالاکوٹ کی بات ہے‘ یہ ایک سو فیصد سچی کہانی ہے۔ وزیراعظم پر اعتراضات غلط بات ہے۔

وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے ائیر فورس کو فضائیہ حملے کی اجازت دی ہے“۔

ائیر وائس مارشلء کپل کاک ایک ریٹائرڈ افیسر نے اتوار کے روز ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”اس پر بحث کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

بادل او ربارش رڈار کو ہوائی جہاز کی نشاندہی کرنے سے نہیں روک سکتے۔

مگر ہاں ان حالات میں جو ہتھیار ہم داغ رہے ہیں یا پاکستان کی جانب سے داغے جانے والے ان پر خراب اثر ضرور پڑے گا۔کچھ ہتھیاروں کے لئے ہم مسافت سے نشانہ تک دوری کا اندازہ کرتے ہیں۔

چاہئے اپنا ہو یا دشمن کا ہوائی جہاز ان حالات میں رڈار کی ضد میں ہر صورت میں ائے گا۔ یہ نہایت غیر پیشہ وارنہ عمل ہے“