وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر توجہ فرمائی اُوپر کی طرف تو ٹھیک ٹھیک بنادیا اُنھیں سات آسمان اور وہ سب کچھ خوب جانتا ہے۔ (سورۃ البقرہ ۔۲۹)
گزشتہ سے پیوستہ … اسے چاہئے کہ ہر چیز کو اپنے تصرف میں لائے۔ اس سے فائدہ اُٹھائے اور اپنی خدمت لے۔ لیکن جادۂ حق سے بھٹکے ہوئے انسان کی پستی کا کیا کہنا کہ اس نے مخدوم ہوتے ہوئے اپنے چاکروں کو اپنا مطلوب بنایا بلکہ بعض نے تو انہیں خدائی کے تخت پر بٹھایا اور ان کو اپنا مخدوم اور مطاع بنا کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے ۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کسی بےانصافی کا تصور کیا جا سکتا ہے آیت کے اس حصہ نے انسان کو اپنے بلند مقام سے آگاہ کیا اور اس خود فراموش کو جھنجھوڑا تاکہ وہ اپنے چہرہ سے ذلت ورسوائی کی گرد صاف کرے۔
استوی کا صلہ جب الی ہو تو اس کا معنی قصد کرنا، متوجہ ہونا ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ زمین کی تخلیق کے بعد ارادۃ خداوندی آسمان کی آفرینش کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اسے ایسے درست فرمایا کہ اس میں کوئی کمی اور کجی باقی نہ رہنے دی۔ ان آیات سے علم تخلیق کائنات (Cosmogeny) کی تفصیلات اور جزئیات کا بیان مقصود نہیں۔ بلکہ غرض یہ ہے کہ انسان کائنات سماوی وارضی میں غور کرے اور اس کو نیست سے ہست کرنے والے کی قدرت کا اعتراف کرے اور رب قدیر نے اس کی بقاء اور آسائش کے لئے جتنے مکمل انتظامات کئے ہیں ان سے جائز فائدہ اُٹھائے اور اس کی ان عنایات بےپایاں کا شکریہ ادا کرے۔