ٹاملناڈو میں سی جوزف وجئے کے چرچے

   

روش کمار
آج کل سارے ملک میں جہاں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی جیسی طاقتور لیڈر اور ان کی پارٹی ٹی ایم سی کی شکست کے چرچے ہیں، وہیں سی جوزف وجئے کے بھی بہت زیادہ چرچے ہیں۔ ٹاملناڈو کی سیاست کے جوزف وجئے نئے سپراسٹار ہیں۔ کیرالا اور آندھرا پردیش میں عیسائی چیف منسٹر ہوئے ہیں، لیکن ٹاملناڈو میں پہلی بار ایسا ہوگا جب کوئی عیسائی مذہب کا ماننے والا چیف منسٹر بنے گا۔ وجئے کے والد عیسائی ہیں۔ اور ماں ہندو کہتے ہیں کہ کسی ایک مذہب میں ان کی پرورش نہیں ہوئی۔ مندر، مسجد، درگاہ، گرجاگھر سب میں جاتے رہے۔ مذہبی ہم آہنگی کی شبیہ بنانے پر انہوں نے بہت کام کیا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ لیڈر بننے کیلئے ذات کی بنیاد ہونی چاہئے۔ مذہب کی بنیاد ہونی چاہئے۔ وجئے نے ان دونوں باتوں کو غلط ثابت کردکھایا۔ ٹاملناڈو کے عوام نے بھی کہا جاسکتا کہ اس نے ایک ایسے لیڈر پر یقین کیا جو اپنی ذات یا مذہب کی طاقت کی بنیاد پر ان کے درمیان نہیں آرہا۔ عوام کو پتہ تھا کہ وجئے کی کوئی ذات یا مذہبی بنیاد نہیں ہے پھر بھی عوام وجئے کے ساتھ گئی۔ اس بات کیلئے عوام کی تعریف کی جانی چاہئے۔ جنوب کی سیاست میں یہ بہت بڑی تبدیلی ہوئی ہے۔ وجئے نے اپنے جلسوں میں کئی بار کہا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ اس طرح سے ٹاملناڈو نے ایک ایسی پارٹی اور ایک ایسے لیڈر کا انتخاب کیا ہے جس نے کھل کر ر کہا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ نہیں جائے گا۔ وجئے نے ڈی ایم کے کو سیاسی حریف بتایا مگر بی جے پی کو سیاسی دشمن بتایا۔ وجئے بی جے پی کو دشمن بتاتے ہوئے کہتے رہے کہ بی جے پی دراوڑین جذبات کے خلاف کام کرنے والی پارٹی ہے۔ تخریبی سیاست کرتی ہے۔ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتی ہے۔ وجئے نے کئی بار کہا کہ بی جے پی کی سیاست تملناڈو کی مذہبی ہم آہنگی کی روایات کے خلاف ہے۔ یہی نہیں بی جے پی پھانسی وادی پارٹی ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ کبھی اتحاد نہیں کریں گے۔ ایسا کرنا TVK کے اصولوں اور عزت نفس کے خلاف ہوگا۔ یعنی بی جے پی سے وہ اس حد تک دوری بنارہے تھے۔ ایسا کرکے ایک طرف وجئے نے اپنے آپ کو پرانی دراوڑین پارٹیوں سے الگ کیا اور باہری پارٹی کی شکل میں دیکھی جانے والی بی جے پی کے خلاف بھی ایک موثر آواز بن گئے۔ لوگ DMK اور AIADMK کے درمیان چن چن کر اُکتا گئے تھے، اس لئے وجئے نے خود کو ایک نئے عہد کی شکل میں پیش کیا۔ وجئے کی کامیابی میں آپ کو ایک نئی پارٹی کا کمال ہی نہیں دکھائی دے گا بلکہ بی جے پی کو لے کر صاف صاف لائن دکھائی دے گی کہ وہ بی جے پی کے بارے میں کس طرح سے سوچ رہے ہیں، ہم نے آپ کو بتادیا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وجئے جب نمبر نہ آئیں تو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرلیں اور حکومت بنالیں تب ہمیں ان کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے خلاف کہی گئیں، ان باتوں کی جانکاری نہیں تھی۔ ریسرچ کے دوران پتہ چلا کہ انہوں نے بی جے پی کے خلاف کھل کر موقف اختیار کیا ہے۔ تملناڈو کے اسمبلی انتخابات میں وجئے کی جیت بی جے پی کیلئے اچھی خبر نہیں، وہاں ڈی ایم کے ہار گئی مگر اس کی جگہ بی جے پی سے لڑنے والی ایک اور پارٹی آگئی۔ وجئے اپنی تقاریر میں کہا کرتے تھے ڈی ایم کے اور بی جے پی کے درمیان اندرونی طور پر سمجھوتہ ہے۔ الیکشن میں شکست کے بعد اسٹالن ، بی جے پی کے پیروں میں گڑگڑائیں گے۔ آپ چاروں طرف دیکھ رہے ہیں۔ ملک بھر میں بی جے پی کے مخالفین ختم ہوتے جارہے ہیں اور بی جے پی سے لڑ نہیں پارہے ہیں۔ تملناڈو میں بی جے پی کی مخالفت کرتے ہوئے ایک نئی پارٹی اقتدار تک پہنچ گئی۔ آج کی سیاست میں جہاں مغربی بنگال میں کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کی جیت اسی لئے ہوئی کیونکہ وہاں ہندو بنام مسلمان کے درمیان تقسیم بڑے پیمانے پر ہوئی۔ تملناڈو میں ایک ایسا لیڈر بالکل نیا لیڈر منظر عام پر آتا ہے جو کھل کر کہہ رہا ہے کہ مندر، درگاہ، گرجاگھر سب جگہ جاتے ہیں۔ تملناڈو میں عیسائی طبقہ آبادی کا صرف 6 تا 7 فیصد ہی ہے۔ قریب 40 لاکھ عیسائی آبادی والی ریاست کے 5.67 کروڑ رائے دہندوں میں وجئے جس طبقہ سے آتے ہیں، اس عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی آبادی 40 لاکھ بتائی جاتی ہے اور 40 لاکھ آبادی والے لیڈر کی پارٹی کو کوئی جمی جمائی پارٹی 2 یا 4 سیٹیں سے زیادہ نہ دیں لیکن وجئے نے 2024ء میں TVK کا قیام عمل میں آیا۔ ریاست کی تمام 234 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کردیئے۔ وجئے نے دسویں جماعت فاطمہ میئر پکلیوٹ مشن ہائر سیکنڈری اسکول سے کی۔ اس کے بعد چینئی کے لوئلہ کالج میں ویژول کمیونیکیشن کورس میں داخلہ لیا لیکن درمیان میں تعلیم ترک کردی اور اداکار بننے کی راہ پر چل پڑے۔ 10 سال کی عمر سے ہی وجئے اداکاری کرنے لگے تھے۔ ان کے والد ایک فلم پروڈیوسر تھے اور اس ماحول میں ان کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے بطور چائیلڈ آرٹسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں فلموں میں کام کرتے ہوئے تملناڈو کے کامیاب ترین فلم اسٹار بن گئے۔ وجئے کی ایک فلم ہے ’’سرکار‘‘۔ اس فلم کی کہانی یہ ہے کہ ایک این آر آئی تملناڈو آتا ہے اور پاتا ہے کہ اس کا ووٹ کسی اور نے ڈال دیا ہے۔ وہاں وہ کردار وجوہات کی تلاش کرتا ہے اور اس کے پیچھے کی بدعنوانی کو اجاگر کرنے لگتا ہے۔ انتخابی دھاندلیوں پر بنی فلم سپرہٹ ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جبکہ الیکشن کمیشن پر مغربی بنگال میں تنقیدیں ہورہی ہیں۔ اس کے ایک ایک اقدام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں تملناڈو سے ایک ایسا فلم اسٹار الیکشن جیت جاتا ہے جس کی ایک کامیاب فلم انتخابی دھاندلی پر بنی۔ ’سرکار‘ ایک کامیاب فلم مانی جاتی ہے۔ سی جوزف وجئے کی فلمیں زیادہ تر کامیاب رہیں۔ وجئے نے اپنی فلموں میں ان ہی کرداروں کو چنا جو کبھی بدعنوان نہیں ہوتا ہے۔ دیانت داری کے راستے پر چلتا ہے۔ اس دور میں جب برائی کو برانڈ مان لیا گیا ہے، وجئے کا کردار اچھائی پر چلتے ہوئے برانڈ بن جاتا ہے۔
بنگال میں تشدد
اب چلتے ہیں مغربی بنگال، اس ریاست میں تشدد کون برپا کررہا ہے اور کون اس تشدد کی تائید میں کھڑا ہے۔ 4 مئی کے بعد سے تشدد کا دور وہاں کیسے شروع ہوا جبکہ وہاں لاکھوں پیرا ملٹری فورسیس کے جوان اب بھی تعینات ہیں۔ پھر یہ تشدد کیسے ہوا اور اس کی چھوٹ کیوں دی گئی۔ اگر ان جوانوں کی تعیناتی تشدد روکنے کیلئے کی گئی تھی تو تشدد کی جوابدہی کون طئے کرے گا۔ ایک ریاست میں 2.5 لاکھ مرکزی فورسیس تعینات ہیں اور تب بھی اس طرح سے کھلا تشدد ہورہا ہے، اس کا ذکر ہم نے پہلے کیا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جوابدہی طئے نہیں ہوگی۔ جو لوگ تشدد میں ملوث ہیں ان تمام کے ویڈیوز ہیں۔ اگر وہ بی جے پی کے نہیں ہیں تو کیا ان تمام کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اس کا بھی جواب آپ جانتے ہیں۔ میرے پاس تشدد کے ایسے ویڈیوز نہیں ہیں، اس لئے ہم آپ کو نہیں دکھا سکتے۔ ویسے بھی تشدد کے ویڈیوز دیکھنا انسان کی ذہنی صحت کیلئے ٹھیک نہیں ہوتا۔ بی جے پی اتنی بار انتخابات جیت چکی ہے، اس طرح کا تشدد کہیں نہیں ہوا جس طرح بنگال میں ہوا۔ لوگ فوری اس کا تعلق مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ سے جوڑ دیں گے لیکن اس کی تاریخ تو کبھی نہیں رہی کہ 2.5 لاکھ پیرا ملٹری فورسیس کے جوان تعینات رہیں اور پھر بھی بنگال میں تشدد برپا ہوگیا اور کیوں ہوا۔ بنگال میں جو تشدد ہوا ہے وہ ماضی کی سیاست کا اثر نہیں بلکہ وہاں کا تشدد پچھلے دس برسوں کی نفرت اور پرتشدد سیاست کی ایک توسیع ہے۔ اتنی سی بات سمجھ لینی چاہئے۔ تشدد صرف بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان نہیں ہورہا ہے۔ صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ تشدد نہیں۔ یہ کہا جارہا ہے کہ تشدد میں ترنمول کے کارکن بی جے پی کا جھنڈا لے ترنمول کانگریس کے دفتروں پر حملے کررہے ہیں۔ تشدد کی اتنی چھوٹ مل گئی کہ لوگ لباس بدل کر خود کے ہی دفتر پر حملہ کررہے ہیں یا بنگال میں ترنمول کانگریس کے کارکن اپنی پارٹی اور لیڈروں سے اتنا ناراض تھے کہ بی جے پی کی کامیابی کے ساتھ ہی اپنی پارٹی کے دفتروں کو جلانے آگئے۔ بی جے پی کا جھنڈا لے کر۔ بی جے پی کے ترجمان دیوجیت سرکار نے مضبوطی سے یہ بات کہی ہے کہ کئی مقامات پر بی جے پی کے کارکنوں پر ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے حملہ کیا ہے۔ یہ کیسے ہوگیا۔ حکومت بدلتے ہی پولیس نئی حکومت کیلئے سائرن بجانے لگ جاتی ہے۔ 2.5 لاکھ مرکزی فورسیس وہاں تعینات ہیں تب بھی اقتدار جانے کے بعد ترنمول کانگریس کے لیڈر بی جے پی کارکنوں اور لیڈران پر حملے کررہے ہیں۔ دیپ جیت سرکار نے اعلان کیا کوئی خود سے اپنے آپ کو بی جے پی کا کارکن نہیں بتاسکتا۔ بی جے پی لیڈر شیامک نے کہا کہ اگر بی جے پی کے کسی کارکن نے تشدد کیا تو اسے پارٹی سے نکال دیا جائے گا کیونکہ بی جے پی تشدد کی سیاست کو ختم کرنا چاہے گی۔