ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ قبول کرنے کا ’آخری موقع‘
واشنگٹن، 4 اگست (یو این آئی) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کو قبول کرنے کا ایک ’’آخری موقع‘‘ہے ورنہ اسے “انقلابِ قیادت” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سفارت کاری کو ایک آخری موقع دینے کیلئے ’’دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ‘‘منسوخ کردیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ علاقائی طاقتوں کی درخواست پر تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، حالانکہ ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی صاف تردید کی ہے ، جس سے امریکہ اور ایران سفارت کاری کی صورتِ حال پر شدید غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے اور یہ نئے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا کوئی پیش رفت یا فوجی تصادم قریب آ رہا ہے ۔ٹرمپ نے بتایا کہ سفارتی پیش رفت کے آثار اور علاقائی اتحادیوں کی اپیلوں کے بعد انہوں نے ایران کے خلاف ایک بڑے امریکی فوجی آپریشن کے طور پر بیان کی جانے والی کارروائی کو روک دیا تھا، لیکن انتباہ دیا کہ کسی معاہدے کیلئے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ شاید ہمیں کچھ حاصل ہو جائے ، لیکن میں انقلابِ قیادت سے پہلے انہیں ہر آخری موقع دینا چاہتا ہوں، “ایک اچھے دستاویز پر دستخط کرنے کیلئے … یہ ایران کے پاس آخری موقع ہے ۔”ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات “اس وقت جاری ہیں” اور بتایا کہ یہ بات چیت ایران کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے ان حملوں کو روک دیا جو “دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہوتے ” کیونکہ سفارت کاری آگے بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ تہران نے پیر کے روز صدر کے اس بیان کی تردید کی ہے ۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور بتایا کہ اس کی موجودہ بات چیت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عارضی بحری سکیورٹی انتظامات سے متعلق ہے ۔ اس کھلی تردید نے ٹرمپ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں سے جڑی شدید غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کر دیا، جہاں واشنگٹن مذاکرات کو فعال کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ تہران نے ان کے وجود سے ہی انکار کر دیا ہے ۔ایران کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے ملک کی قیادت پر “غیر معمولی طور پر دھوکے باز” ہونے کا الزام لگایا اور آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کے بیانات کو “روایتی بکوَاس” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
تازہ ترین جملوں کے تبادلے سے ٹرمپ کی اس حکمتِ عملی کو تقویت ملتی ہے جس میں وہ تہران کے ساتھ جوہرے ی معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کے تحت فوجی دباؤ کو سفارت کاری کی پیشکشوں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ امریکی صدر نے بار بار ڈیڈ لائن جاری کی ہیں اور فوجی نتائج کی تنبیہ کی ہے ، لیکن مذاکرات کے پچھلے دور پابندیوں کے خاتمے ، یورینیم کی افزودگی اور وسیع تر علاقائی سکیورٹی کے مسائل پر معطل ہو گئے ہیں۔آبنائے ہرمز اس تنازع کے مرکز میں برقرار ہے ۔ یہ تنگ آبی راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے تقریباً پانچویں حصے کو سنبھالتا ہے ، جس سے اس کی سکیورٹی کیلئے پیدا ہونے والا کوئی بھی خطرہ توانائی کے بازاروں اور جیو پولیٹیکل استحکام کیلئے ایک اہم خطرہ بن جاتا ہے ۔