این آئی اے کی درخواست مسترد، ممبئی پریس کلب میں موجودگی کو ضمانت کی خلاف ورزی ماننے سے انکار
حیدرآباد۔ 30 اگست (سیاست نیوز) ممبئی کی خصوصی عدالت نے یلگار پریشد کیس میں 4 ملزمین کی ضمانت کو منسوخ کرنے سے انکار کردیا۔ خصوصی عدالت کے مطابق این آئی اے ملزمین کی جنوری میں ممبئی پریس کلب میں موجودگی کو ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نیشنل انوسٹیگیٹیو ایجنسی نے اس معاملہ میں وکلاء سدھا بھرواج اور ارون پریرا کے علاوہ انقلابی شاعر و ادیب وراورا راؤ اور جہدکار ورنن گونسالویس کی ضمانت کی منسوخی کے لئے خصوصی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ چاروں ملزمین نے ممبئی پریس کلب کے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ 19 جنوری کو ممبئی پریس کلب نے اربن نکسل موومنٹ کو مستحکم کرنے پر غور کیا گیا۔ خصوصی عدالت کے جج سی ایس باوسکر نے کہا کہ اگرچہ چاروں افراد دیگر مدعوئین کے ساتھ پریس کلب میں جمع ہوئے اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے آپس میں مقدمہ کے بارے میں بات چیت کی ہو۔ عدالت نے کہا کہ صرف باہمی ملاقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ پراسیکیوشن کو اپنے الزام کے حق میں کچھ تو ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ این آئی اے کی جانب سے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ممنوعہ سی پی آئی ماوسٹ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی سلسلہ میں یہ ملاقات ہوئی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ضمانت کی منظوری کا مقصد ملزمین کو مقدمہ سے مربوط سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنا ہے اور ایک مقام پر جمع ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ عدالت نے کہا کہ ملزمین کو احتیاط سے کام لینا چاہئے اور کسی بھی متنازعہ سرگرمیوں میں موجودگی سے گریز کرنا چاہئے۔ دفاعی وکلاء نے کہا کہ چاروں افراد کو تیسرے فریق کی جانب سے مدعو کیا گیا اور وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ دیگر مدعوئین کون ہیں۔ وکلاء وائی چودھری اور آر ستیہ نارائنا نے کہا کہ بات چیت عام نوعیت کی تھی جس میں جیل کی صورتحال بھی شامل ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزمین عام طور پر سماعت کے دوران عدالت اور عدالت کی راہداریوں میں ملاقات کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ مقام کورٹ روم سے پریس کلب منتقل ہوگیا اسے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصی عدالت نے این آئی اے کی جانب سے پیش کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کیا جس میں کوئی آڈیو نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ویڈیو فوٹیج میں وہاں موجود افراد کی باڈی لینگویج سے اس بات کا اشارہ نہیں ملتا کہ ملزمین کسی سنگین مسئلہ پر بات چیت کررہے تھے جس میں ممنوعہ تنظیم کے نظریات شامل ہیں۔ ممبئی ہائی کورٹ نے ڈسمبر 2021 میں بھردواج کو ضمانت منظور کی جبکہ فروری 2021 میں وراورا راؤ کو عبوری ضمانت میڈیکل گراؤنڈ پر منظور کی گئی۔ اگست 2022 میں سپریم کورٹ نے ضمانت کی توثیق کی۔ گنزالویس اور پریرا کو جولائی 2023 میں سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی۔ اس مقدمہ میں ٹرائل کا ابھی آغاز نہیں ہوا ہے۔ این آئی اے نے اپریل میں ممبئی پریس کلب کے عہدیداروں سے ملاقات کی جبکہ 19 جنوری کے واقعہ پر پریس کلب کے تین ارکان کو دو دن قبل ہی معطل کیا گیا تھا۔ پریس کلب کی داخلی کمیٹی کی رپورٹ پر یہ کارروائی کی گئی جس میں ملزمین کی موجودگی پر اعتراض جتایا گیا۔ معطل کردہ ارکان کو گزشتہ ماہ پریس کلب کے الیکشن کے بعد بحال کردیا گیا۔ 1؍F