وزیراعظم مودی کی خاموشی معنی خیز ، دہلی میں پریس کانفرنس تحفظات کرانے کا مرکز سے مطالبہ
حیدرآباد ۔ 12 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے تلنگانہ کانگریس حکومت بدعنوانیوں میں غرق ہوجانے کا الزام عائد کیا امرت اسکیم کے اسکام کا مکمل ثبوت ہونے کے باوجود کارروائی کیوں نہ کرنے کا مرکزی حکومت سے سوال کیا ۔ ریاست میں آر آر ٹیکس وصول کرنے کا الزام عائد کیا ۔ امرت اسکیم کی بدعنوانیوں کے تعلق سے مرکزی وزیر شہری ترقیات منوہر لعل کھڑ کو شکایت کرنے کے بعد دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کی تفصیلات پیش کی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ مہاراشٹرا میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی تلنگانہ کانگریس پارٹی کیلیے اے ٹی ایم بن جانے کا صرف الزام عائد کررہے ہیں جب کہ ہم نے مرکز کی جانب سے امرت اسکیم کے لیے ریاست کو مختص کیے گئے ۔ 8888 کروڑ روپئے میں بہت بڑا اسکام ہونے کا نہ صرف الزام عائد کررہے ہیں بلکہ مرکزی وزیر شہری ترقیات کو تحریری ثبوت بھی پیش کرچکے ہیں ۔ مرکزی حکومت اس کی تحقیقات کرائے امرت اسکیم ٹنڈرس بدعنوانیوں کا ثبوت موجود ہے ۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر عہدے کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپنے برادر نسبتی کی کمپنی شوبھاکو اہلیت نہ رکھنے کے باوجود ٹنڈر حوالے کرتے ہوئے 1137 کروڑ روپئے کے کام سونپ دیا ہے ۔ سال 2021-22 میں شوبھا کنسٹرکشن کمپنی کی آمدنی صرف 2.2 کروڑ روپئے ہے ۔ ایسی کمپنی کو اتنا بھاری ٹنڈر کیسے حوالے کیا جاسکتا ہے ۔ استفسار کیا تحقیقات کرتے ہوئے ٹنڈر منسوخ کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ امرت اسکیم ٹنڈر کے تعلق سے ویب سائٹ میں تفصیلات درج نہ ہونے کا دعویٰ کیا ۔ مرکزی اسکیم میں بدعنوانی ہونے پر وزیراعظم کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا ۔ نریندر مودی تلنگانہ میں آر آر ٹیکس وصول کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں ۔ مگر کارروائی کیوں نہیں کررہے ہیں استفسار کیا ۔ چیف منسٹر اپنے برادر نسبتی کو امرت دیتے ہوئے کوڑنگل فارما کے ذریعہ عوام کو زہر دے رہے ہیں ۔ ارکان خاندان کو کنٹراکٹ دینا کیا سرکاری اختیارات کا بیجا استعمال نہیں ہوتا ۔ تلنگانہ حکومت اور راہول گاندھی سے وضاحت طلب کی ۔۔ 2